خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 435

خطبات مسرور جلد دہم نوازے۔435 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جولائی 2012ء اور پھر تیسری چیز یہ فرمائی کہ اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون ہے جو اپنی مشیت کے مطابق کوئی احسان کرتا ہے یا کوئی بھی کام کرتا ہے، اپنے بندوں پر احسان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں پر احسان کرے۔اس لئے اُس نے اپنی رحمت کو وسیع تر کیا ہوا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے وعدے اُس کی مشیت کے ساتھ شامل ہو جائیں تو پھر انعاموں اور فضلوں اور احسانوں کی ایسی بارش ہوتی ہے جس کا انسان احاطہ بھی نہیں کر سکتا۔اور یہ صورتحال اس دور میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ساتھ نظر آتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور فیصلہ آپ کے غلبہ کا اعلان کرتا ہے۔پھر اگلی بات آپ نے یہ فرمائی کہ حمد کی حقیقی حقدار وہ ذات ہوتی ہے جس سے تمام فیض اور نور کے چشمے پھوٹ رہے ہوں۔پس جب انسان الحمد للہ کہے تو یہ سوچ کر کہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس سے انسان کو سب فیض پہنچ رہے ہیں اور وہی ذات ہے جو زمین و آسمان کا نور بھی ہے۔اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے۔اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ (النور: 36) جب وہ نور ہے تو اُسی کی طرف انسان رجوع کرے۔اُس کی طرف بڑھے۔اُس کے آگے جھکے اور یوں پھر ایسا انسان حقیقی حمد کرنے والا بن کر اندھیروں سے روشنیوں کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔اور یہاں پھر اللہ تعالیٰ کے احسان کا ایک اور مضمون شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّوْرِ (البقرة: 258) کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کا دوست ہو جاتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔اور جس بندے کا اللہ تعالیٰ دوست اور ولی ہو جائے پھر اُسے الحمد للہ کا بھی ایک نیا ادراک حاصل ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا بھی ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔گویا حقیقی حمد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا ہے اور پھر اس وارث بننے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ایک کے بعد دوسر افضل ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بھی یادر کھنے والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کسی پر غیر شعوری طور پر احسان کرتا ہے ، نہ کسی مجبوری کے تحت بلکہ علی وجہ البصیرت یہ احسان ہے۔جانتا ہے کہ میں یہ احسان کر رہا ہوں اور اس احسان کا بدلہ بھی نہیں لینا لیکن بندے کو یہ بھی بتادیا کہ اگر تم شکر گزار بنو گے حقیقی حمد کرتے رہو گے، بندگی کا حق ادا کرو گے تو لازِيدَنَّكُم اور بھی زیادہ تمہیں ملے گا۔میرے یہ انعامات اور احسانات