خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 37

خطبات مسرور جلد و هم 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء تھی۔دعائیں کر رہے تھے کہ پتہ نہیں کو ئی مخفی شرط نہ ہو جس کو ہم پورا نہیں کر رہے۔(شرح العلامہ زرقانی على مواهب اللدنية جلدنمبر 2 صفحه 281 تا 284 باب غزوہ بدر الكبرى دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) اگر آپ کے ساتھ ترقی کے لئے مخفی شرائط ہیں، فتح کے ساتھ مخفی شرائط ہیں تو باقی اور کون ہے جس کے ساتھ یہ شرائط نہ ہوں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے رازوں کا کسی کو علم نہیں۔اپنے آپ کو پاک کرنے کی بہت ضرورت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے، جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اورصدیقوں کے لیے آخر کٹڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔“ (غصے سے بچنا ضروری ہے) فرمایا کہ حجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔( تکبر اور غرور جو ہے غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب، تُعجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔کبھی غصہ تکبر کی وجہ سے آتا ہے۔کبھی تکبر اور غرور کی وجہ سے غصہ آتا ہے اور کبھی تکبر اور غرور غصے کی وجہ بن جاتے ہیں ) فرمایا ” کیونکہ غضب اُس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں، یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے۔جس کے اندر حقارت ہے (جس میں تکبر پایا جاتا ہے ) ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔فرمایا کہ بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔اس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَابَزُوا ط بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات : 12)۔( یعنی ایمان کے بعد فسق کا جو داغ ہے یہ لگنا بہت بری بات ہے۔پہلے تو فرمایا له وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَاب ایک دوسرے کے نام بگاڑ کر نہ پکارو اور ایمان کے بعد فسق کا داغ لگنا بہت بری بات ہے اور فرمایا کہ جس نے توبہ نہ کی تو یہی ظالم لوگ ہیں )۔فرماتے ہیں کہ ” تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فسّاق وفجار کا ہے۔“ ( وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی