خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 416

خطبات مسر در جلد دہم 416 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جولائی 2012ء کرنے والے ہوئے تو ہم اپنی زندگیوں میں انشاء اللہ تعالیٰ ان ترقیات اور غلبہ کو دیکھنے والے ہوں گے۔یہ انجام جو جماعت کا مقدر ہے اس کی شان انشاء اللہ ہم خود دیکھیں گے۔پس اس شان کو دیکھنے کے لئے، اس غلبے کو دیکھنے کے لئے اپنے تقویٰ کو ، تقویٰ کے معیار کو بلند تر کرتے چلے جانے کی کوشش ہر احمدی کو کرتے رہنا چاہئے۔جماعتی ترقی اور انجام کے بارے میں اس حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”یہ بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ حکم خواتیم پر ہے“۔یعنی جو انجام ہے۔”خدا تعالیٰ نے بھی 66 (یہی) فرمایا ہے کہ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف : 129 )۔فرمایا کہ سنت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ صادق لوگ اپنے انجام سے شناخت کئے جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔اوائل میں نبیوں پر ایسے سخت زلازل آئے کہ مدتوں تک کوئی صورت کامیابی کی دکھلائی نہ دی اور پھر انجام کا رنسیم نصرت الہی کا چلنا شروع ہوا۔اپنی جماعت کی ترقی کے بارے میں آپ نے اس انجام اور الہی بشارتوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے، فرماتے ہیں : مواعید صادقہ حضرت احدیت سے بشارتیں پاتا ہوں“۔یعنی کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچے وعدوں کی خوشخبریاں پا رہا ہوں۔” تو میراغم و درد بالکل دور ہو جاتا ہے اور اس بات پر تازہ ایمان آتا ہے۔“ ( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 62-63 مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) یعنی جماعت کی ترقی کے انجام پر آپ کو خبریں اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو فرماتے ہیں میرا ایمان تازہ ہوتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” مجھے تو خوشبو آتی ہے کہ آخر کا ر فتح ہماری ہے“۔(انشاء اللہ) (البدر جلد 1 نمبر 3 مؤرخہ 14 نومبر 1902ء صفحہ 20) پس یہ ترقی اور فتح تو جماعت احمدیہ کا مقدر ہے۔ہمیں اس ترقی کا حصہ بننے کے لئے اپنے تقویٰ کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے۔ان جلسے کے دنوں میں اور پھر انشاء اللہ کچھ دنوں بعد رمضان بھی شروع ہو رہا ہے، اس سے بھی بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے تقویٰ کے معیار ہر احمدی کو بلند تر کرتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔ہر ایک کو جلسے کے ان دنوں سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ تمام برکات ہم میں سے ہر ایک سمیٹنے والا ہو جو اس جلسے سے وابستہ