خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 391

خطبات مسر در جلد دہم 391 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔پس یہ قیام نماز اورحفاظت نماز کے اس الہی ارشاد کی کچھ وضاحت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اور جس کی آپ نے ہر احمدی سے توقع رکھی ہے۔فرمایا کہ، ورنہ بیعت کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا، اس کی اہمیت کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے تا کہ ہم اپنے عمل سے ثابت کریں اور دنیا کو بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ہم میں وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں جس نے ہمیں خدا سے ملایا ہے۔اب بہت سارے نئی بیعت کرنے والے میں نے دیکھے ہیں، اُن کے خطوط آتے ہیں، اُن میں ان نمازوں کی وجہ سے ایک انقلاب اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا ہے۔پس ہر احمدی کو خاص طور پر پر انے احمدیوں کی اولادوں کو اس کو یا درکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نمازوں کے ایسے ذوق اور حضور کی کیفیت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے، اس لئے تم سب سے پہلے یہی دعا خدا تعالیٰ سے کرو کہ اے اللہ! مجھ میں قرب کی یہ حالت پیدا ہو جائے۔اس کے لئے آپ نے ہمیں ایک دعا سکھائی۔فرماتے ہیں کہ یہ دعا کیا کرو کہ اے اللہ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجاؤں گا“۔( یعنی اس دنیا سے رخصت ہونے کا بلاوا آ جائے گا ) ''اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا۔لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا اُنس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں“۔فرمایا ” جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا با قاعدگی اختیار کرے گا ) تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رفت پیدا کر دے گی۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 616 ایڈیشن 2003 ، مطبوعہد ر بوه ) اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی نمازیں نصیب فرمائے۔جمعہ کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک ہمارے مربی سلسلہ جوانڈونیشیا کے رہنے والے تھے، اُن کا ہے ، جن کا نام امر معروف عزیز صاحب تھا۔16 جون کو بقضائے الہی وفات پاگئے ، اِنّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔یہ 6 دسمبر 1962ء کو پیدا ہوئے تھے۔پیدائشی احمدی تھے۔1979ء میں جامعہ میں داخل ہوئے اور 1987ء میں مبشر کا کورس کر کے جامعہ ربوہ سے فارغ ہوئے اور انڈونیشیا گئے۔مختلف جگہوں پر ان کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کی توفیق دی۔2011ء تک جامعہ انڈونیشیا میں تھے۔