خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 384
384 خطبات مسرور جلد دهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء عذر نہیں چلتا، اُس پر تو حاضر ہو سکتے ہیں۔میں جانتا ہوں دنیا ئے احمدیت میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان مغربی ممالک میں رہتے ہیں اور مسجد سے پندرہ بیس میل کے فاصلے پر رہتے ہیں۔لیکن نمازوں کے لئے مسجد میں آتے ہیں۔اگر ظہر ، عصر کی نمازیں نہ پڑھ سکیں، تو جیسا کہ میں نے کہا ، یہ لوگ فجر ، مغرب اور عشاء پرضرور شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں تو تقریباً ہر ایک کے پاس سواری ہے، اپنے دنیاوی کاموں کے لئے سواریاں استعمال کرتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور اُس کی عبادت کے لئے یہ سواریاں استعمال کریں گے تو ان سواریوں کا مقصد دین کی خدمت بھی بن جائے گا اور آپ کے بھی دین و دنیا دونوں سنور جائیں گے۔جہاں بہت زیادہ مجبوری ہے وہاں اگر قریب احمدی گھر ہیں تو کسی گھر میں جمع ہو کے گھروں میں باجماعت نماز کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔جہاں اکیلے گھر ہیں وہاں اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ باجماعت نماز کی ادائیگی کی کوشش ہونی چاہئے تا کہ بچوں کو بھی نماز با جماعت کی اہمیت کا پتہ چلے۔بچوں کو ماں باپ اگر فجر کی نماز کے لئے اُٹھائیں گے تو اُن کو جہاں نماز کی اہمیت کا اندازہ ہو گا وہاں بہت سی لغویات سے بھی وہ بچ جائیں گے۔جن کو شوق ہے، بعضوں کو رات دیر تک ٹی وی دیکھنے یا انٹرنیٹ پر بیٹھے رہنے کی عادت ہوتی ہے، خاص طور پر ویک اینڈ (Weekend) پر تو نماز کے لئے جلدی اُٹھنے کی وجہ سے جلدی سونے کی عادت پڑے گی اور بلا وجہ وقت ضائع نہیں ہوگا۔خاص طور پر وہ بچے جو جوانی میں قدم رکھ رہے ہیں، اُن کو صبح اٹھنے کی وجہ سے ان دنیاوی مصروفیات کو اعتدال سے کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔بعض مجبوریاں بھی ہوتی ہیں، اچھی دیکھنے والی چیزیں بھی ہوتی ہیں ، معلوماتی باتیں بھی ہوتی ہیں، اُن سے میں نہیں روکتا، لیکن ہر چیز میں ایک اعتدال ہونا چاہئے۔نمازوں کی ادائیگی کی قیمت پر ان دنیاوی چیزوں کو حاصل کرنا انتہائی بے وقوفی ہے۔پھر یہ بھی ہے کہ چھٹی کے دن بعض مجبوریاں ہوتی ہیں، بعض فیملی کے اپنے پروگرام ہوتے ہیں ، چھٹی کے دن اگر فیملی کا کہیں باہر جانے کا پروگرام ہے تو اور بات ہے، لیکن اگر نہیں ہے تو پھر مسجد میں زیادہ سے زیادہ نمازوں کے لئے آنا چاہئے اور بچوں کو ساتھ لانا چاہئے۔بہت سے لوگ کہتے ہیں جی بچوں کو مسجد میں آنے کی عادت نہیں ہے، بعض بچے بگڑ رہے ہیں۔اُن کا علاج تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ بچپن سے اُن کو اس بات کی عادت ڈالیں کہ وہ خدا کا حق ادا کریں اور وہ حق نمازوں سے ادا ہوتا ہے۔بچوں کو بچپن سے اگر یہ احساس ہو کہ نماز ایک بنیادی چیز ہے جس کے بغیر مسلمان مسلمان کہلا ہی نہیں سکتا تو پھر جوانی میں یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے اور پھر یہ شکوے بھی نہیں رہیں گے کہ بچے بگڑ گئے۔تفریح کے لئے بھی اگر جائیں، اگر کوئی پروگرام ایسا ہے تو۔