خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 383
خطبات مسرور جلد دہم 383 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء نمازوں کو قائم کرو۔نماز کے قیام کا حکم قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر ہے، بلکہ سورۃ بقرہ کی ابتدا میں ہی ایمان بالغیب کے بعد اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتا جب تک کہ اقام الصلوۃ نہ کرے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 346 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) اور اس زمانے میں قیامِ نماز کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب خدا تعالیٰ نے خلافت کے وعدے کے ساتھ اس طرف توجہ دلائی ہے کہ خلافت کے انعامات اُن لوگوں کے ساتھ ہی وابستہ ہیں جو نماز کے قیام کی طرف نظر رکھیں گے۔قیام نماز کیا ہے؟ نماز کی باجماعت ادا ئیگی ، با قاعدہ ادا ئیگی اور وقت پر ادا ئیگی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ آقِيْمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكُوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ (البقرة: 44) اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور ا کٹھے ہو کر جھکنے والوں کے ساتھ جھکو۔پس نماز قائم کرنے والوں اور مالی قربانیاں کرنے والوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ خصوصیت اُن میں ہونی چاہئے کہ وہ ایک جماعتی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں، اور یہی اُنہیں حکم ہے کہ جماعت بنا کر عبادت کرو اور جماعتی طور پر مالی قربانیوں کا بھی ذکر ہے کہ وہ کرو تا کہ اُس کام میں اُس عمل میں جو ایک جماعت پیدا ہونے کی وجہ سے ہوگا ، برکت پڑے۔نمازوں کے باجماعت ثواب کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ باجماعت نماز پڑھنے والے کو ستائیس گنا ثواب ملتا ہے۔(صحیح بخاری کتاب الاذان باب فضل صلاة الجماعة حديث : 645) ہم درسوں میں سنتے ہیں ، تقریروں میں سنتے ہیں، بچوں کو بھی تقریریں تیار کرواتے ہیں اُس میں بیان کرتے ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو اُس پر پوری توجہ نہیں دی جارہی ہوتی۔پس سوائے اشد مجبوری کے اپنی نمازوں کو باجماعت ادا کرنا چاہئے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر جائزے لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ نماز با جماعت کی طرف وہ تو جہ نہیں جو ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ میں مساجد بنانے کی طرف بہت توجہ پیدا ہوئی ہے لیکن مساجد بنانے کا فائدہ تو تبھی ہے جب اُن کے حق بھی ادا ہوں۔اور مساجد کے حق اُن کو آباد کرنا ہے۔اور آبادی کے لئے خدا تعالیٰ نے جو معیار رکھا ہے وہ پانچ وقت مسجد میں آکر نماز ادا کرنا ہے۔بہت سے لوگ بیشک ایسے ہیں جن کو کام کے اوقات کی وجہ سے پانچ وقت مسجد میں آنا مشکل ہے۔لیکن فجر ، مغرب اور عشاء میں تو یہ