خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد دہم 359 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء سے چند منٹ کا انٹرویو بھی لیا۔وہاں جب وہ نمائندہ اخبار کا اپنے سوال ختم کر چکا، تو میں نے اُسے کہا کہ میرے پاس بھی ایک سوال ہے۔یا میرے سوال یہ ہیں کہ یہ علاقہ جس میں نن سپیٹ ہے ، ہمارا سینٹر، مرکز ہے۔ہالینڈ میں یہ علاقہ بائبل بیلٹ کہلاتا ہے۔دین کا علم رکھنے والے یہ لوگ ہیں۔باقی ہالینڈ کی نسبت زیادہ تعداد چرچ جانے والوں کی ہے۔حضرت عیسی کی آمد اور آمید ثانی کے بھی تم لوگ منتظر ہو، اُس کی نشانیاں بھی تم لوگوں کے مطابق کچھ نہ کچھ ہیں اور تمہارے مطابق یہ وقت آچکا ہے بلکہ گزر گیا ہے۔تو حضرت عیسی تو نہیں آئے ، جو آیا ہے جس کو ہم مسیح موعود مانتے ہیں، اب اس کی آمد پر غور کرو۔میری اس بات پر اُس کے چہرے پر ذرا سرخی آئی لیکن مسکرا کر چپ ہو گیا۔اُس نے کچھ کہا نہیں۔اس بات کے بعد میرا خیال تھا کہ وہ شاید ہمارے فنکشن کے بارے میں خبر نہ لگائے اور اگر لگائے گا بھی تو شاید صحیح حقائق پیش نہ کرے۔لیکن اگلے دن میرے لئے بھی اور وہاں کی جماعت کے لئے بھی یہ بات حیران کن تھی کہ نہ صرف اُس نے خبر لگائی بلکہ اخبار کے پہلے صفحے پر، پورے پہلے صفحے پر میری تصویر بھی دے دی اور اندر بھی تقریباً ڈیڑھ صفحہ کی اس فنکشن کی خبر ، تصویروں کے ساتھ شائع کی۔اور جلسے کے حوالے سے بڑی تفصیلی باتیں کیں۔اسلام کی تعلیم کے حوالے سے خبر دی۔یہ اخبار وہاں کا نیشنل اخبار ہے جو لاکھوں کی تعداد میں پڑھا جاتا ہے۔پس اس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم اس ملک کے لوگوں میں بھی پہنچی۔اس طرح جیسا کہ میں نے کہا ایک اور نیشنل اخبار ہے اُس نے بھی خبر دی۔لوکل اخباروں نے بھی کوریج دی۔ان کے چند حصے میں پیش کر دیتا ہوں۔جو پہلا اخبار ہے ہالینڈ کا نیشنل اخبار داگ بلاد Dagblad اس کا نام ہے، اُس نے پہلے تو یہ خبر شائع کی کہ امن لانے والا خلیفہ۔اور اس کے بعد پھر میرے حوالے سے لکھا کہ حضرت عیسی کی واپسی کے متعلق جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ وفات پاچکے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے۔حضرت مرزا غلام احمد کی آمد ہی عیسی کی آمد ثانی ہے۔پھر کافی لمبی تفصیل مختصر چند فقرے میں پڑھ دیتا ہوں۔پھر اُس نے لکھا کہ جماعت دنیا میں اپنی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں پھیل رہی ہے۔احمدیوں کے بیانات میں کبھی بھی شدت آمیز الفاظ کا استعمال نہیں کیا جاتا۔مغربی ممالک میں جماعت کے قیام کی وجہ صرف مشنریز کے ذریعے ہی نہیں بلکہ اپنے آبائی وطنوں میں پیش آنے والے مسائل بھی ہیں۔اور پھر اُس نے پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والے احمدیوں کا ذکر کیا۔پھر لکھتا ہے کہ افراد جماعت کا جماعت کے ساتھ اور آپس میں ایک بہت گہرا تعلق ہے۔پھر اُس نے جلسہ کی بڑی تفصیلی خبریں دیں۔پھر یہ میرے حوالے سے لکھتا ہے کہ میں نے کیا کہا۔”انہوں نے حاضرین کا دلی شکر یہ ادا کیا