خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 358

358 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء خطبات مسر در جلد دہم ہوئے جن میں علاقے کے ممبر آف پارلیمنٹ بھی تھے، شہر کے میئر بھی تھے، سیاستدان بھی تھے، پڑھے لکھے لوگ بھی تھے اور حیران کن طور پر علاوہ چھوٹے اخباروں کے نیشنل اخبار کے نمائندے بھی تھے۔ان کے سامنے اسلام کی خوبصورت تعلیم کے چند پہلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور قرآن کریم کی تعلیم کے حوالے سے پیش کئے۔کیونکہ یہ جو وہاں کا اعتراض کرنے والا سیاستدان ہے ان چیزوں پر ہی وہ اعتراض کرتا ہے۔وہاں کے میئر نے اور ایم پی نے بھی مختصر خطاب کیا اور مذہبی رواداری اور برداشت کی باتیں کیں۔بعد میں جیسا کہ میں نے کہا، جب میں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ پیش کیا تو ایم پی نے جو بعد میں مجھ سے باتیں کیں، اُس نے اسلام کی خوبصورت تعلیم سے کافی متاثر ہو کر اس کا ذکر کیا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ میرے خیال میں ہالینڈ جماعت کے سیاستدانوں سے رابطے نہیں۔ایم پی کی باتوں سے اس بات کا بھی اظہار ہوا اور تصدیق ہو گئی۔کہنے لگے آپ لوگ سیاستدانوں اور پڑھے لکھے طبقے سے زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہیں۔اُن کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتائیں اور پھر اخباروں اور ویب سائٹس پر بھی اس کا ذکر کریں۔اس طرح انہوں نے نام لئے بغیر یہ اشارہ کیا کہ اگر یہ کارروائی آپ لوگ کریں گے تو ولڈر (Wilder) جیسے اسلام دشمن لوگوں کے بھی منہ بند ہو جائیں گے اور عوام الناس کو بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پتہ چلے گا۔پس دیکھیں یہاں بھی کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ پورے ہور ہے ہیں کہ خدا کے کام بھی عجیب ہیں۔یہ خدا کا فعل ہے کہ ایک شخص جو عیسائی ہے، اسلام کی خوبصورت تعلیم اپنے ہم وطنوں کو بتانے کے طریقے بتا رہا ہے۔پھر اس شریف النفس ایم پی نے جو بڑے پرانے اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، بہت لمبے عرصے سے ممبر آف پارلیمنٹ چلے آرہے ہیں، اپنی ویب سائٹ پر بھی میری اور اپنی تصویر کے ساتھ اس فنکشن اور میٹنگ کی تفصیل بیان کی، جو بعد میں ان سے پرائیویٹ ملاقات ہوئی اُس کی بھی تفصیل انہوں نے لکھی اور اس بارے میں مجھے کہہ کر گئے تھے کہ میں یہ سب دوں گا تا کہ اسلام کے بارے میں ہمارے ہم وطنوں کی غلط فہمیاں دور ہوں اور جو بعض مفاد پرست لوگ اور سیاستدان اور اسلام دشمن ملک میں یہ نفرتیں پھیلا رہے ہیں ، وہ دور ہوں۔پھر اخبارات نے بھی بڑے اچھے انداز میں اس فنکشن کی تفصیلات اور جو کچھ میں نے کہا تھا، وہ لکھیں۔وہاں ملک کے دو بڑے نیشنل اخبارات کے نمائندے آئے ہوئے تھے۔ایک نے تو میرے