خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 352
خطبات مسرور جلد دہم 352 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم جون 2012ء آئی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔اسی طرح ایک دو اور باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ نمازوں کی طرف بھی خاص تو جہان دنوں میں رکھیں۔صبح فجر کی نماز میں میں نے دیکھا تھا لوگ یہاں ہال میں سوئے ہوئے تھے اور نماز بھی ہو گئی تو سوئے رہے تھے۔حالانکہ تہجد بھی یہاں پڑھی گئی تھی، پھر نماز بھی پڑھی گئی لیکن اُن میں سے بعض جوان بھی تھے ، سوئے ہوئے تھے۔اگر کوئی بیمار بھی ہے تو نماز پڑھنا تو بہر حال ضروری ہے۔اُٹھ کے نماز پڑھیں اور پھر سوئیں۔لیکن یہ نمونہ آئندہ یہاں ہال میں قائم نہیں ہونا چاہئے۔انتظامیہ کو بھی یہ دیکھنا چاہئے۔شعبہ تربیت جو ہے اُن کو ہر ایک کو جگانا چاہئے۔اسی طرح میں نے کل کارکنان کو کہا تھا، سب کو کہتا ہوں کہ سیکیورٹی پر نظر رکھنا۔یہ نہ سمجھیں کہ ہم ایک ہال میں بند ہیں تو بڑے اچھے سیکیورٹی کے انتظامات ہیں۔بیشک ہیں لیکن تب بھی ہر ایک کو اپنے ماحول پر دائیں بائیں نظر رکھنی چاہئے۔کسی قسم کی شرارت سے اللہ تعالیٰ ہر ایک کو محفوظ رکھے۔دوسرے اب جمعہ کے بعد، نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ سیدة امتہ اللہ بیگم صاحبہ کا ہے جو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی بیٹی تھیں، جن کی کل بانوے سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت سیدۃ چھوٹی آپا ام متین صاحبہ سے چھوٹی تھیں۔دوسرے نمبر پر تھیں اور میٹرک کی تعلیم کے بعد دینیات کلاس پاس کی۔یہ مکرم پیر صلاح الدین صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں جو حکومت نے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر رہے یا بہر حال بڑے سرکاری عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔1943 ء سے لے کر 44 ء تک ملتان کی لجنہ کی صدر کے طور پر خدمات کی توفیق ملی۔پارٹیشن کے فوراً بعد راولپنڈی میں سیکرٹری مال اور دیگر جماعتی عہدوں پر فائز رہیں۔1971ء میں آپ کو اپنے خاوند کے ساتھ حج کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔اور ان کی یہ خوبی جو تھی جو ہر ایک نے ان کے بارے میں لکھی ہے ، وہ یہ تھی کہ گو انہوں نے بعض حادثات بھی دیکھے۔ایک جوان بیٹے کی موت بھی ہوئی۔خاوند کی موت کے بعد جوان بیٹے کے ساتھ رہتی تھیں کہ اچانک اُس کی وفات ہوگئی۔لیکن ہمیشہ صبر سے کام لیا۔انہوں نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔بہت دعا گو اور عبادت گزار تھیں۔بچوں کو اکثر یہ نصیحت کرتی تھیں کہ عبادت کی طرف توجہ کرو اور نماز کو نہ چھوڑو۔صدقہ خیرات بہت کرتی تھیں۔بعض خواتین کے با قاعدہ وظیفے لگائے ہوئے تھے۔اسی طرح مطالعہ کا بھی بڑا شوق تھا۔صلہ رحمی اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک میں بے مثال تھیں۔اپنے خاندان کے ساتھ ، سسرال کے ساتھ جن میں سے بہت سے