خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 351

خطبات مسرور جلد دہم 351 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء کرنے والوں پر رحمان خدا رحم کرے گا۔تم اہلِ زمین پر رحم کرو۔آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔(سنن الترمذى كتاب البر والصلة باب ماجاء فی رحمۃ المسلمین حدیث۔:1924) پس جب ہم اللہ تعالیٰ کا رحم ما نگتے ہیں، اُس سے اُس کی رحمت کے تمام چیزوں پر حاوی ہونے کا واسطہ دے کر اُس سے دعا مانگتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی ہمدردی خلق کے جذبے کو بھی پہلے سے بڑھ کر دکھانا ہو گا، اُس میں بھی وسعت دینی ہوگی۔پس ان دنوں میں جہاں احمدی اپنی عبادتوں اور ذکر الہی کے ذریعے سے خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کرے، وہاں ہمدردی خلق اور رنجشوں کو دور کرنے اور اخلاق کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔خالصہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک دلوں کی کدورتیں اور رنجشیں دور نہ ہوں۔اصل ہمدردی خلق کا جذبہ تو وہیں ظاہر ہوتا ہے جہاں ہر ایک سے بلا امتیاز اور بلاتخصیص ہمدردی کا جذبہ ہو اور یہی ہمدردی کا جذبہ پھر ایک دوسرے کے لئے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔اور پھر آپس کی دعاؤں سے تقویٰ کا قیام عمل میں آتا ہے۔دلوں اور روحوں کی پاکیزگی کے سامان ہوتے ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نئے معیار قائم ہوتے ہیں۔پس جس بات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم سے عہد بیعت لیا ہے، یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔یہ ہماری حالتوں میں انقلاب لانے کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بھی ضروری ہے اور معاشرے میں اسلام کی خوبصورت تعلیم پھیلانے اور انقلاب لانے کے لئے بھی ضروری ہے۔پس ان دنوں میں اس جذبے کو بڑھانے اور بڑھاتے چلے جانے کی کوشش کریں۔اور دعائیں بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔ہم میں سے ہر ایک جلسہ کی برکات کو سمیٹنے والا ہو۔ہماری نسلیں بھی احمدیت کے ساتھ مضبوطی سے جڑی رہیں اور ایک روحانی انقلاب اپنی حالتوں میں پیدا کرنے والی ہوں۔اللہ تعالیٰ ان دنوں میں اور آئندہ بھی ہمیشہ جماعت کو ، جماعت کے افراد کو دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ہمدردی کے جذبے کے تحت یہ بھی دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ اس تباہی سے دنیا کو بچالے جس کی طرف یہ بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔مسلم امہ کے اور مسلمان حکومتوں کے لئے بھی دعائیں کریں یہ بھی آجکل بڑے ابتلا میں آئی ہوئی ہیں اور اپنے جائزے لینے کی کوشش نہیں کرتیں کہ کس وجہ سے یہ ابتلا میں