خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 319

خطبات مسرور جلد دہم 319 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء پھر آپ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنے لئے خدا تعالیٰ کے نشانات کا ذکر فرماتے ہوئے چھہترویں نشان میں فرماتے ہیں کہ: براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ پیشگوئی ہے الْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیری محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالوں گا۔اور میں اپنی آنکھوں کے سامنے تیری پرورش کروں گا۔یہ اُس وقت کا الہام ہے جب ایک شخص بھی میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا۔پھر ایک مدت کے بعد یہ الہام پورا ہوا اور ہزار ہا انسان خدا نے ایسے پیدا کئے کہ جن کے دلوں میں اُس نے میری محبت بھر دی۔بعض نے میرے لئے جان دی اور بعض نے اپنی مالی تباہی میرے لئے منظور کی اور بعض میرے لئے اپنے وطنوں سے نکالے گئے اور دُکھ دیئے گئے اور ستائے گئے اور ہزار ہا ایسے ہیں کہ وہ اپنے نفس کی حاجات پر مجھے مقدم رکھ کر اپنے عزیز مال میرے آگے رکھتے ہیں“۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 239-240) یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک مخلص صحابی حضرت سید ناصر شاہ صاحب اوورسیئر کے ایک خط کا ذکر فرمایا۔فرماتے ہیں کہ جنہوں نے لکھا ہے کہ ”میری بڑی تمنا یہ ہے کہ قیامت میں حضور والا کے زیر سایہ جماعت بابرکت میں شامل ہوں جیسا کہ اب ہوں۔آمین۔حضور عالی! اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ خاکسار کو اس قدر محبت ذات والا صفات کی ہے کہ میرا تمام مال و جان آپ پر قربان ہے اور میں ہزار جان سے آپ پر قربان ہوں۔میرے بھائی اور والدین آپ پر نثار ہوں۔خدا میرا خاتمہ آپ کی محبت اور اطاعت میں کرے۔آمین۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 240 حاشیہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”جب میں اس درجہ کا صدق اور ارادت اکثر افراد اپنی جماعت میں پاتا ہوں تو بے اختیار مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اے میرے قادر خدا! در حقیقت ذره ذره پر تیرا تصرف ہے۔تو نے ان دلوں کو ایسے پر آشوب زمانہ میں میری طرف کھینچا اور اُن کو استقامت بخشی، یہ تیری قدرت کا نشانِ عظیم الشان ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ (240) اس وقت میں بعض ایسے مخلصین کی اپنی روایات پیش کروں گا جو وفا اور عقیدت اور محبت اور اطاعت کے جذبے سے پر ہیں۔بعض باتیں بظاہر معمولی لگتی ہیں ، بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔انسان سمجھتا ہے کہ یہ کونسی اطاعت ہے، ذراسی معمولی بات ہے۔لیکن ہر اطاعت کا جو واقعہ ہے اس میں ایک گہرا سبق ہے۔اس عشق و وفا کی وجہ سے جو ان صحابہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا، کس طرح