خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 25
خطبات مسر در جلد دہم 25 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012 ء انسان جھکا ر ہے گا، اُس سے مدد مانگتا رہے گا تو تب وہ حالت پیدا ہوگی جو تُوبُوا الیہ کی حالت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ پھر تو بہ قبول کر کے اُس کو برائیوں سے روکے۔تُوبُوا إِلَيْهِ کو مزید کھولتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : استغفار اور تو بہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر تقدم ہے۔“ (یعنی استغفار توبہ سے پہلے ہے اور اہم ہے کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔( استغفار پہلے ہے کہ اس سے مدد اور قوت ملتی ہے، طاقت ملتی ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے آنسو بہائے جاتے ہیں۔دل ہر قسم کی ملونی سے صاف کیا جاتا ہے۔تو یہ اس لئے پہلے ہے کہ جب یہ استغفار ہوگی اور اللہ تعالیٰ سے مانگو گے اور جب یہ ہو جائے گا تو پھر انسان کا دوسرا قدم جو ہے وہ تو بہ ہے جو اپنے پاؤں پر مستقل مزاجی سے کھڑا ہونا ہے۔تو بہ کے لئے بھی پھر مستقل مزاجی سے استغفار کرتے ہوئے تو بہ کی حفاظت کرنی ہو گی۔صرف کانوں کو ہاتھ لگا کر تو بہ تو بہ کرنا جس طرح آجکل بعض جگہوں پر رواج ہے یہ تو بہ نہیں ہے بلکہ پہلے استغفار سے قوت حاصل کرو۔پھر اس مقام پر پہنچو جہاں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے، نیکیوں کی طرف توجہ زیادہ پیدا ہو جائے۔یہ تو بہ ہوگی اور جب یہ حاصل ہو گی تو پھر اس کو قائم رکھنے کے لئے استغفار ضروری ہے) فرماتے ہیں کہ عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوبُوا إِلَيْهِ ہے۔اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا ، کیا کر سکے گا۔توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔اگر استغفارنہ ہوتو یقیناً یاد رکھو کہ تو بہ کی قوت مرجاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہو گا۔يُمَتِّعُكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (هود: 4) ( کہ ایک مقررہ میعاد تک اللہ تعالیٰ اچھی طرح والا سامان عطا کرے گا)۔فرمایا کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور تو بہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے۔“ (یعنی ہر ایک چیز کو حاصل کرنے کی جو قوت ہے، کسی چیز کو دریافت کرنے کی قوت، حاصل کرنے کی جو قوت ہے، پانے کی قوت ہے ، طاقت ہے، اُس کے لئے ایک دائرہ ہے ) جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔( اپنی اپنی استعداد کے مطابق ایک دائرہ ہے جس میں ہر انسان اپنی ترقی