خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد دہم 24 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012 ء دلانے والا ، جس سے کام لینے والا شیطان ہے، یہ زہریلا مادہ ہے ) اور دوسرا تریاقی مادہ ہے۔“ ( علاج کرنے کا مادہ ہے، برائیوں کا علاج کس طرح کیا جائے اور یہ دونوں چیزیں انسان کے اپنے اندر موجود ہیں ، زہریلا مادہ بھی اور تریاقی مادہ بھی۔برائیاں بھی انسان کے اندر موجود ہیں اور اچھائیاں بھی انسان کے اندر موجود ہیں۔اگر اچھائیوں سے برائیوں کو نہیں دباؤ گے، نیکیوں سے برائیوں کو نہیں دباؤ گے، اللہ تعالیٰ کے غفران کے نیچے اُس کی مدد مانگتے ہوئے نہیں آؤ گے تو وہ برائیاں قبضہ جمالیں گی۔فرمایا کہ ”جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا تو سمی قوت غالب آجاتی ہے۔پس جب استغفار نہیں ہو گا تو دلوں پر قبضہ کرنے والی جو چیز ہے وہ تکبر ہے جو استغفار سے بھی روکتی ہے۔جب انسان تکبر کرتا ہے اپنے آپ کو کچھ سجھتا ہے اور جوتریاقی چشمہ ہے، جو استغفار ہے، اُس سے اگر مدد نہیں لیتا تو زہریلی قوت جو ہے وہ پھر انسان پر غالب آجاتی ہے)۔فرمایا: ” لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہت نکلتی ہے۔اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔“ پس حقیقی استغفار کیا ہے؟ ایسی استغفار جس سے روح گداز ہوکر بہہ نکلے۔اور یہ روح گداز ہونا زبانی منہ سے استغفار کرنا نہیں ہے بلکہ وہ استغفار ہے کہ دل سے ایک جوش کی صورت میں استغفار نکلنی چاہئے۔اور جب یہ نکلتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے آنکھ کے پانی کی صورت میں بہتی ہے تو پھر یہ ایک انسان میں انقلاب پیدا کرتی ہے اور تبدیلی لاتی ہے۔فرمایا : ” یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے۔“ (جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ استغفار سے طاقت آتی ہے۔اور وہ طاقت اُس استغفار سے آتی ہے جو دلی جوش سے نکل رہا ہو جیسا کہ بیان ہوا ہے اور آنکھ کے پانی کی صورت میں اُس کا اظہار ہو رہا ہو۔وہ استغفار حقیقی استغفار ہے جو انسان میں ایک تبدیلی پیدا کرتا ہے )۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔اوّل رسول کی اطاعت کرو۔دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو۔فرمایا کہ ” ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چاہو۔جب قوت مل گئی تو تُوبُوا إِلَيْهِ یعنی خدا کی طرف رجوع کرو۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 348-349 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق رسول کی اطاعت ہے۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ہے۔پس اول رسول کی اطاعت ہے۔پھر مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف اگر