خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 285

خطبات مسرور جلد دہم 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012ء پاس دو دو گھوڑے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ گھوڑا مجھے پکڑا دو۔وہ کہنے لگے کہ تم گجرات کے ضلع کے رہنے والے ہو۔ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گھوڑا لے کر بھاگ نہ جاؤ۔خیر میں نے کہا کہ میں ضلع جہلم کا ہوں (گجرات کانہیں ہوں۔رہتاس سے آرہا تھا ) مگر انہوں نے نہ مانا مگر میں ان کے ساتھ رہا کیونکہ رات کا سفر بھی وہ کرتے تھے۔(جو دو سپاہی تھے ) جب وہ مرالے میں اترے تو میں نے بھی وہیں بستر بچھا لیا۔ایک سکھ کہنے لگا کہ میاں تم ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے۔( اُن میں سے ایک سکھ بھی تھا) ہمیں تمہارا ڈر ہے۔جس وقت آدھی رات ہوئی وہ چل پڑے۔میں بھی ساتھ ہولیا۔پھر ایک سکھ نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ تم ہمارا کوئی گھوڑا نہ لے جاؤ۔میں نے کہا کہ میں تو جلدی جانا چاہتا ہوں۔ساتھ کی خاطر تمہارے ہمراہ چل پڑا ہوں۔ایک سکھ نے کہا کہ یہ بھلا مانس آدمی معلوم ہوتا ہے اُسے ایک گھوڑادے دو۔چنانچہ تین میل میں نے گھوڑے پر سوار ہو کر سفر کیا۔رات وزیر آباد پہنچے۔پل پر سے گزرنے کا پیسہ بھی مجھے انہوں نے دیا اور رات کا کھانا بھی انہوں نے ہی کھلایا۔( یعنی کوئی ٹول ٹیکس لگتا ہوگا ، وہ بھی انہوں نے دیا، رات کا کھانا کھلایا ) رات ایک بجے پھر تیار ہو گئے اور مجھے گھوڑا دے دیا۔دوسری رات کا مونکی یا مرید کے میں بسیرا کیا۔پھر انہوں نے کھانا مجھے کھلایا۔پھر رات چل کر صبح سات یا آٹھ بجے لاہور پہنچے۔( یہ تقریباً کوئی سوڈیڑھ سو میل کا سفر بنتا ہے ) لاہور پہنچے۔پھر چونکہ ان کا راستہ الگ تھا اس لئے وہ علیحدہ ہو گئے۔گیارہ بجے لاہور سے گاڑی چلنی تھی۔میں آٹھ بجے پہنچا۔اس لئے یہ خیال کر کے کہ کون تین گھنٹے انتظار کرے ( قادیان پہنچنے کا شوق تھا۔تین گھنٹے انتظار کیا کرنا ہے۔کہتے ہیں ) میں (پھر پیدل ) چل پڑا۔ڈیڑھ گھنٹے میں جلو پہنچا۔وہاں سٹیشن پر گاڑی کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا کہ پونے بارہ بجے چلے گی۔پھر میں وہاں سے چل پڑا۔اٹاری پہنچا۔سٹیشن سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ سوا گھنٹہ گاڑی میں ہے۔پھر چل پڑا۔( کیا انتظار کرنا ہے۔) ابھی دو میل خاصہ کا سٹیشن رہتا تھا کہ گاڑی نکل گئی۔خاصہ سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اب شام کے سات بجے گاڑی آئے گی۔میں پھر پیدل چل پڑا اور کوئی شام سے قبل ہی امرتسر پہنچ گیا۔وہاں ایک شیخ ہمارے شہر کے تھے ان کے پاس رات بسر کی۔وہاں سے صبح گاڑی پر سوار ہوا اور چھ آنے دے کر بٹالہ پہنچ گیا۔بٹالہ سے پھر پیدل چل کر چار پانچ بجے قادیان پہنچ گیا۔دوسرے روز صبح حضرت صاحب سے ملاقات کی۔چار پانچ دن آرام سے گزارے۔پھر اجازت چاہی اور عرض کیا کہ ہم چھوٹے ہوتے یہ کہا کرتے تھے کہ یا اللہ ! امام مہدی کے آنے پر ہمیں سپاہی بنے کی توفیق عطا فرمانا۔سفر کا واقعہ بھی تمام ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ) سنایا کہ کس طرح میں نے اکثر وقت جو ہے سفر کا پیدل