خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد دہم 284 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء میں آگیا۔( دوسری طرف سے ) دور سے میری نظر جو حضرت صاحب پر پڑی تو وہی رؤیا میں (خواب میں جود یکھا تھا) جو شخص مجھے دکھایا گیا تھا بعینہ وہی حلیہ تھا۔حضرت صاحب کے ہاتھ میں عصا بھی تھا پگڑی بھی پہنی ہوئی تھی۔سوئی ہاتھ میں ) تھی۔گویا تمام وہی حلیہ تھا۔اس سے قبل مجھے دادی کی معرفت معلوم ہوا تھا کہ حضرت صاحب کپڑے اتار کر تشریف فرما ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کو مجھے رؤیا والا نظارہ دکھا نا منظور تھا۔اس لئے حضور نے جولباس زیب تن فرما یا وہ بالکل وہی تھا جو میں نے رویا میں دیکھا تھا۔میں حضرت صاحب کی طرف چل پڑا تھا اور حضرت صاحب میری طرف آرہے تھے۔گول کمرہ کے دروازہ سے ذرا آگے میری اور حضرت صاحب کی ملاقات ہوئی۔میں نے حضرت صاحب کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ خواب والے ہی بزرگ ہیں اور سچے ہیں۔چنانچہ میں حضور سے بغلگیر ہو گیا اور زار زار رونے لگا۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ رونا مجھے کہاں سے آیا اور کیوں آگیا مگر میں کئی منٹ تک روتا ہی رہا۔حضور مجھے فرماتے تھے صبر کریں، صبر کریں۔جب مجھے ذرا رو نا تھم گیا اور مجھے ہوش قائم ہوئی تو حضور نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا لاہور سے۔حضور نے فرمایا کیوں آئے؟ میں نے کہا زیارت کے لئے۔حضور نے فرمایا: کوئی خاص کام ہے؟ میں نے پھر عرض کیا کہ صرف زیارت ہی مقاصد ہے۔حضور نے فرمایا۔بعض لوگ دعا کرانے کے لئے آتے ہیں اپنے مقصد کے لئے۔کیا آپ کو بھی کوئی ایسی ضرورت درپیش ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی ضروت در پیش نہیں۔تب حضور نے فرمایا کہ مبارک ہو۔اہل اللہ کے پاس ایسے بے غرض آنا بہت مفید ہوتا ہے۔( یہ غالباً حضرت صاحب نے مجھ سے اس لئے دریافت فرمایا تھا کہ ان ایام میں حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں لکھا تھا کہ بعض لوگ میرے پاس اس لئے آتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے لئے دعا کرائیں)۔“ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 9 صفحہ نمبر 120 تا 126 روایت حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب) لیکن میری اس بات سے بہت خوش ہوئے ، مبارکباد دی کہ میرا تو مقصد صرف اور صرف آپ کو ملنا اور زیارت تھا۔حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجر بیان فرماتے ہیں کہ ”جب ہم اپنے وطن پہنچے تو دو ماہ کے بعد پھر قادیان آنے کی تحریک پیدا ہوئی مگر خرچ نہیں تھا مگر دل چاہتا تھا کہ پیدل ہی چلنا پڑے تو چلنا چاہئے۔دو رو پے میرے پاس تھے۔میں رہتاس سے جہلم باوجود گاڑی ہونے کے پیدل آیا۔پھر خیال آیا کہ آگے بھی پیدل ہی چلنا چاہئے۔جہلم کے پل سے گزرنے لگا تو چار پانچ سپاہی رسالے کے جن کے