خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد دہم 265 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء کے نئے نئے چشمے پھوٹنے لگے۔عبادتوں کے ایسے معیار قائم ہوئے جو نہ کسی نے پہلے دیکھے، نہ سنے۔اور وہ عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوا جس پر عبادتوں کی بھی انتہا ہوئی۔جس پر وفاؤں کی بھی انتہا ہوئی۔جس پر حقوق اللہ کی ادائیگی کی بھی انتہا ہوئی اور پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ پاتے ہوئے یہ سب باتیں اُس مقام پر پہنچیں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے پیارے رسول حضرت خاتم الانبیاء مد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کروایا کہ قُلْ اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ العلمين (الانعام: 163 )۔تو اعلان کر دے کہ یقیناً میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو رب العالمین ہے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبادتوں ، قربانیوں اور ہر عمل کے وہ معیار قائم ہوئے جو نہ پہلے کبھی دیکھے گئے ، نہ سنے گئے ، جیسا کہ میں نے کہا۔یہ وہ معراج تھی جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لئے یہ اعلان کروا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اب اسی عظیم رسول کی اتباع سے مل سکتی ہے، اس کے بغیر نہیں مل سکتی۔یہ اسوہ حسنہ ہے جس میں عبادتوں اور قربانیوں کے معیار قائم ہوئے ہیں۔اور پھر جنہوں نے آپ کی قوت قدسی سے براہِ راست فیض پایا اُن کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے فیض پانے کے نئے سے نئے راستے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے سے کھلتے چلے گئے۔ساری ساری رات عبادتیں کرنے والے اور دن کے وقت دین کی خاطر قربانیاں کرنے والے پیدا ہوئے۔جو روحانی لحاظ سے مردے تھے، وہ ایک اعلیٰ ترین زندگی پاگئے۔یہ وہ عظیم رسول تھا جو تا قیامت تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے آیا تھا۔پس یہ فیض آج بھی جاری ہے۔یہ اُسوہ حسنہ آج بھی اسی طرح روشن اور چمکدار ہے جس طرح پہلے دن تھا۔جو عظیم تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری جو آپ لے کر آئے، وہ آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی ہے۔اس عظیم نبی کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں وہ غلام صادق عطا فرمایا ہے جس کو آخرین میں مبعوث فرما کر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کام، جس میں آیات کی تلاوت بھی ہے، تزکیۂ نفس بھی ہے، کتاب کی تعلیم بھی ہے اور احکامات کی حکمت بھی بیان ہوئی ہے، ان کا موں کو جاری فرما یا اور پھر اس غلام صادق کے ماننے والوں نے بھی اپنی عبادتوں اور اپنے اعمال کو اپنے آقا و مطاع کے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور اسلامی تعلیمات کو اپنے اوپر اس طرح لاگو کیا کہ مخالفین احمدیت بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اسلامی شعائر کا عملی نمونہ دیکھنا ہے تو ان لوگوں میں دیکھو۔پس یہ وہ معیار ہے جو ہمارے بڑوں نے قائم کر کے مخالفین کی زبانوں کو نہ صرف بند کیا بلکہ اُن