خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 262

خطبات مسرور جلد و هم 262 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء کی مجالس لگانے والے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 173 مسند ابی سعید الخدری حدیث 11675 مطبوعہ بیروت 1998ء) پھر بخاری کی ایک حدیث ہے جو حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جو صبح و شام مسجد کو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے۔“ (صحیح بخاری كتاب الأذان باب فضل من غدا الى المسجد ومن راح حديث 662) پس ہماری مساجد بزرگی اور شرف کے معیار قائم کرنے والی ہونی چاہئیں۔اللہ کرے کہ یہ مسجد بھی اور اس میں آنے والے بھی، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہوں۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔جنت میں اللہ تعالیٰ کی مہمان نوازی سے حصہ پانے والے ہوں۔پس کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس نیت سے مسجدیں بناتے ہیں اور اس نیت سے مسجدوں میں آتے ہیں اور صرف اس دنیا کی جنت نہیں بلکہ اُس دنیا میں بھی، جو دوسری دنیا ہے وہاں بھی اُن کو جنتیں ملتی ہیں۔یا یوں کہہ لیں کہ صرف اُس دنیا کی جنت کی تلاش نہیں کرتے جس کا ذکر حدیث میں ہے بلکہ اس دنیا کی جنت بھی تلاش کرتے ہیں۔ہماری اکثر مساجد میں گنبد کے نیچے لکھا ہوتا ہے، یہاں بھی اس گولائی میں لکھا ہوا ہے کہ أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد:29) کہ آگاہ ہو جاؤ۔اللہ کے ذکر سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔پس جن کے دل اطمینان پا جائیں، اُن کے لئے اس سے بڑی جنت کونسی ہو گی ؟ آجکل دنیا میں جس قدر بے چینیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ خدا تعالیٰ کو بھولنے کی وجہ سے ہیں۔خدا تعالیٰ کو یادر کھنے والے، اُس کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر کرنے والے تو تکلیفوں کو بھی خدا تعالیٰ کی خاطر برداشت کرتے ہیں اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنا کر اپنے دلوں کی تسکین کا باعث بناتے ہیں۔دنیا میں سینکڑوں لوگ اس لئے خود کشیاں کرتے ہیں، روزانہ کرتے ہیں، کہ وہ دنیا وی صدمات برداشت نہیں کر سکتے یا بعضوں کو دنیاوی صدمات کا اتنا زیادہ اثر ہوتا ہے کہ ویسے ہی اُن کو دل کے دورے پڑ جاتے ہیں۔ابھی گزشتہ دنوں مجھے کسی نے پاکستان سے لکھا کہ وہاں شیخوپورہ کے علاقے میں شاید شدید طوفان اور ژالہ باری ہوئی اور لوگوں کی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ایک زمیندار اپنے کھیت میں گیا، خربوزے کی شاید فصل تھی۔دیکھا تو سب ختم ہوا ہوا تھا۔اُس کو اتناصدمہ پہنچا کہ وہ چیز دیکھ کر ہی اُس کو دل کا حملہ ہوا اور وہ وفات پا گیا۔تو یہ جو دنیاوی صدمات ہیں وہ اللہ والوں کو دنیاوی نقصانوں سے نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر صدمہ پر اللہ تعالیٰ سے کو لگاتے ہیں۔