خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد دہم 229 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012ء ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 199-200) پھر حضرت میاں نظام الدین صاحب ٹیلر ماسٹر فرماتے ہیں کہ 1902 ء مارچ میں ہم جہلم سے انجمن حمایت اسلام کا جلسہ دیکھنے کے لئے لاہور آئے۔ہم تین آدمی تھے۔جلسہ گاہ کے باہر ایک مولوی کو دیکھا۔وہ قرآن مجید ہاتھ میں لے کر کھڑا تھا اور کہتا تھا کہ میں قرآن اُٹھا کر کہتا ہوں کہ مرز انعوذ باللہ کو ہڑا ہو گیا ہے۔“ (یعنی اُن کو کوڑھ ہو گیا ہے )۔وہ نبیوں کی ہتک کرتا تھا اور ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا اشتہار بھی بانٹ رہا تھا جس کا یہی مضمون تھا۔میں نے اس سے اشتہار بھی لیا اور ساتھیوں سے کہا کہ چلو قادیان چل کر مرزا صاحب کی حالت دیکھ آویں تا کہ چشم دید واقعہ ہو جائے۔ہم تینوں قادیان آئے تو مغرب کی نماز میں حضرت صاحب کو دیکھا تو وہ بالکل تندرست تھے۔میرے ساتھی اور میں حیران ہوئے کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ ہمارے مولوی نے جھوٹ بولا ہے یا یہ آدمی جو ہمیں بتایا گیا ہے، مرزا صاحب نہیں کوئی اور ہے؟ رات گزر گئی۔صبح ہم نے مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول) سے جا کر دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ” یہی مرزا ہے جس کو تم نے دیکھا ہے اور اشتہار بھی حضرت خلیفہ اول نے اپنی جیب سے نکال کر ہم کو دکھلایا کہ یہ ہمارے پاس بھی پہنچا ہے۔اب تم جس کو چاہو سچا کہہ سکتے ہو، خواہ اپنے مولوی کو جس نے اتنا بڑا جھوٹ بولا ہے قرآن اُٹھا کر یہ اعلان کر رہا ہے کہ مرزا کوڑھی ہو گیا خواہ مرزا کو جو تمہارے سامنے تندرست نظر آ رہا ہے۔ظہر کی نماز کے وقت جب حضرت صاحب نماز کے لئے تشریف لائے تو میں نے حضور کو سارا حال بیان کیا تو حضور نے ہنس کر فرمایا کہ میری مخالفت میں مولوی لوگ جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں۔حدیثوں میں ایسا لکھا تھا کہ مسیح موعود کے وقت علماء بدترین خلائق ہوں گے۔مجھ کو حضور کی باتیں سن کر راحت ہوئی اور میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ میں تو بیعت کرتا ہوں اور یہ میرے ساتھی بھی اتنا جھوٹ دیکھ کر ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔آپ ہمیں اسی وقت بیعت میں داخل فرما کر ممنون فرماویں۔حضور نے فرمایا کہ اتنی جلد بیعت کرنا ٹھیک نہیں۔ابھی تم نے ہماری باتیں نہیں سنیں۔کچھ دن صحبت میں رہیں۔باتیں سنیں۔پھر اگر پورا یقین ہو تو بیعت کر لیں۔ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ بیعت کر جائیں اور مولوی لوگوں کے اعتراض سن کر پھر جائیں تو گنہگار ہوں گے۔(اگر بیعت کر لی اور پھر اگر پھر گئے تو تم بہت زیادہ گنہگار ہو گے ) اس لئے پہلے کم از کم ایک ہفتہ ضرور ہماری صحبت میں رہیں۔ہم خاموش ہو گئے ، وہاں رہے۔حضور نماز سے فارغ ہو کر اندر چلے گئے۔اور پھر کچھ عرصہ بعد کہتے ہیں کہ میں چونکہ درزی تھا۔کسی کے پاس بارہ روپے ماہوار پر ملازم تھا۔اُس نے مجھے میرے احمدی ہونے کی وجہ سے مجھ کو جواب دے