خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 225

خطبات مسر در جلد دہم 225 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012ء صبر و استقامت پر روشنی پڑتی ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا اُن کے ساتھ کیا پیار کا سلوک ہوتا تھا ؟ کس طرح اُن کی دعائیں بھی قبول ہوتی تھیں؟ اُس کے بارے میں بیان کروں گا۔حضرت نور محمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ 7 جنوری 1906ء کو میں مع عیال خود بلوچستان چلا گیا۔( بلوچستان میں تھے ) وہاں پہنچ کر جب میرے استاد مولوی محمد صاحب امام مسجد اہلحدیث نے سنا تو مجھ کو طلب کیا۔( یعنی قادیان آئے تھے وہاں سے بیعت کر کے واپس گئے ) اور کہا کہ مرزا صاحب کتابوں میں تو اچھا لکھتے ہیں مگر در پردہ تلقین کچھ اور کرتے ہیں۔( یعنی لکھتے کچھ اور ہیں اور کہتے اپنے مریدوں کو کچھ اور ہیں۔کہتے ہیں چنانچہ حضرت اقدس کے حضور خط لکھ کے عرض کیا گیا تو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے قلم سے جواب ملا کہ ہماری تلقین دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل پر کمی یا زیادتی کرنے والا لعنتی ہے۔یہ جواب جب مولوی صاحب کو دکھایا گیا تو اُس نے اور تو کچھ نہ کہا صرف یہ کہا کہ سناؤ تم کو بھی الہام ہوا ہے یا نہیں۔( یعنی مذاق اڑانا شروع کیا) تو میں نے کہا کہ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اخبار میں یہ پڑھ کر کہ لوگوں کو ہمارے متعلق خدا سے پوچھنا چاہئے، تو میں نے دعا کی تھی اور مجھے الہام ہوا تھا کہ ” صادق ہے، قبول کر لو۔اس کے بعد کہتے ہیں میں جدھر جاتا ، بازار میں چلتا، بلکہ دفتر کے اندر باہر مجھے چڑانے کے لئے لوگ آوازیں کستے اور مجھے چھیڑنے کے لئے کہ میں مسیح موعود کی بیعت کر کے آیا ہوں تو چپڑاسی کو کوئی افسر کہہ رہا ہے کہ حقہ موعود لے کر آؤ، بلی موعود کو مارو، کاغذ موعود لاؤ۔اس قسم کی بیہودہ قسم کی باتیں شروع کر دیں، وغیرہ وغیرہ۔تو کہتے ہیں کہ میری اُس وقت کی دعائیں یہ ہوتی تھیں کہ اے مولیٰ کریم ! حضرت مسیح موعود کے طفیل میری فلانی دعا قبول فرما۔اور ہر اتوار کو حضرت اقدس کے حضور عریضہ لکھ دیا کرتا۔چنانچہ ایک دعا میری یہ تھی کہ بطفیل حضرت صاحب کوئٹہ سے ترقی پر میری تبدیلی فرما کیونکہ میرا افسر خان بہادر محمد جلال الدین سی آئی ای پولیٹیکل ایڈوائز رقلات تھا اور وہ بھی احمدیت کا سخت مخالف تھا تو میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے دفتر سے تبدیل فرما دے اور تبدیلی بھی ترقی کے ساتھ ہو۔کہتے ہیں تین روز نہیں گزرے تھے کہ میں مستوفی صاحب لاڑی کا سرشتہ دار ہو کر تبدیل ہو گیا۔وہاں پہنچتے ہی جب میں نے دیکھا کہ میں تنہا ہوں تو حضرت صاحب کے حضور روزانہ دعا کے لئے ایک کارڈ لکھنا شروع کیا۔پھر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُس کے نتیجے میں وہاں بارہ آدمی ایک سال کے اندر اندر احمدی بنائے اور اس کثرت سے مجھ پر الہامات کا دروازہ کھلا کہ کوئی رات نہ جاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی الہام نہ ہوتا ہو۔