خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 216
خطبات مسر در جلد دہم 216 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء اور نامی ڈاکو اور چور ہے۔کہتے ہیں وہ بھی ساتھ تھا۔پولیس کا ایک چھتر ہوتا ہے چمڑے کا ایک بہت لمبا سارا، اُس کو لگا کر مارتے ہیں۔اُس کو اگر پانچ مارتے تھے تو ماسٹر صاحب کہتے ہیں مجھے پچیس مارتے تھے۔ایک دفعہ طبیعت خراب ہوئی تو پھر ہر سہ شیخاں لے گئے جو وہاں قریب ایک گاؤں ہے، وہاں سے کچھ انجکشن لگوائے، کچھ دوائیاں دیں، پھر طبیعت سنبھلی تو پھر تشدد کرنے لگ گئے اور یہ سب تھانیدار وغیرہ بیچ میں شامل تھے۔غلیظ گالیاں بھی نکالتے رہے۔کہتے تھے اب لندن سے بلوا ؤ جو تمہارے بڑے ہیں، اُن کو کہو وہ تمہیں چھڑ والیں۔ربوہ سے بلا ؤ، پھر بزرگوں کو غلیظ گالیاں دیتے تھے۔کہتے ہیں مجھے گالیاں سُن کے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔مارتو برداشت ہو رہی تھی لیکن گالیاں سنا مشکل تھا۔کھانا کبھی کبھی کبھار دیتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایسا تشدد اور ظلم کبھی نہ میں نے سنا اور نہ کبھی دیکھا ہے۔مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں برداشت کر سکتا۔میں دعائیں کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے تشدد سہنے کی ، برداشت کرنے کی ہمت دے اور اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے ہمت دی کہ وہ اُس کو برداشت کر سکے۔صدر عمومی صاحب نے مجھے لکھا کہ میں نے اُن کو کہا کہ انہوں نے اتنا کچھ تشدد کیا ہے، کچھ تو آپ سے لکھوالیا ہوگا ؟ کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں مجھے کہا کہ وہ تو مجھ سے ایک نقطہ بھی نہیں ڈلوا سکے۔پس یہ ہے ایمان کو سلامت رکھنے والے اور سچائی پر قائم رہنے والے کی کہانی۔اس عزم اور ہمت کے پیکر نے جان دے دی مگر جھوٹی گواہی نہیں دی۔اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو بھی شرک کے برابر قرار دیا ہے۔پس اس عظیم شہید نے ہمیں جہاں بہت سے سبق دیئے وہاں یہ سبق بھی دیا جو جماعت احمدیہ کے قیام کی بنیادی غرض ہے کہ توحید کے قیام کے لئے اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہیں کرنی کیونکہ جھوٹ بھی شرک کے برا بر ہے اور ہمارے سے شرک نہیں ہوسکتا۔شہید مرحوم نے اپنے عہد بیعت کو بھی نبھایا اور خوب نبھایا۔شہید مرحوم اگر اذیت کی وجہ سے پولیس کی من پسند سٹیٹمنٹ دے دیتے جیسا کہ وہ بتاتے رہے ہیں تو اس کے نتائج جماعت کے لئے مجموعی طور پر بھی بہت خطرناک ہو سکتے تھے۔جس طرح مرزا غلام قادر شہید کو آلہ کار بنانا چاہا تھا، وہ تو ایک نام نہاد تنظیم یا دہشت گرد تنظیم نے بنایا تھا لیکن یہاں تو پولیس نے بنانا چاہا۔اور کیونکہ ضلع کے جو بڑے پولیس افسران ہیں ، وہ اس ظلم سے انکا رہی کر رہے ہیں اور اپنی معصومیت ظاہر کر رہے ہیں اس لئے یہ بھی بعید نہیں کہ اُن کو بائی پاس کر کے چھوٹے افسران کے ذریعہ سے حکومتی لیول پر اوپر سے کوئی حکم آتے رہے ہوں۔اعلیٰ حکام بعض دفعہ ہدایات دیتے رہتے ہیں اور جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ضیاء صاحب خود تھانیدار کو