خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 182

خطبات مسرور جلد دهم 182 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء دور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گناہگار ہو چکے ہیں تو استغفار اُن کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں۔اگر غلطی سے گناہ ہو گیا تو انسان استغفار کرنے سے اُس کے بدنتائج سے بچ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچ جاتا ہے کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے ، یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے ، وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 34) پھر چوتھی شرط بیعت کی یہ ہے یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے ، نہ کسی اور طرح سے۔“ دو ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 اشتہار تکمیل تبلیغ ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پہلا خلق ان میں سے عفو ہے ( معاف کرنا ہے )۔یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔اس میں ایصالِ خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے۔وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے۔سزا دلائی جائے۔قید کرایا جائے۔جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا جائے۔پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اس کے حق میں ایصالِ خیر ہے۔اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے۔وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران: 135) - وَ جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری: 41) یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں۔بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو۔لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخشے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو۔کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو۔یعنی عین عفو کے محل پر ہو۔نہ غیر محل پر (یعنی اس بخشنے کا کا فائدہ ہو ) تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔“ پھر فرمایا کہ: اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 351) انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔بے حیائی نہ کرے۔مخلوق سے بدسلوکی نہ کرے۔محبت اور نیکی سے پیش آوے۔اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 609 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)