خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 176
خطبات مسرور جلد دہم 176 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء یہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ ہی عزتیں دیتا ہے اور ذلت دیتا ہے ) ” کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلل اسی سے خاص کرنا۔اپنی امید میں اسی سے خاص کرنا۔(اُسی سے وابستہ رکھنا ) اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔وہ کون سی تین قسم کی خاص باتیں ہیں۔فرمایا ) اول ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا ( جو کچھ بھی دنیا میں موجود ہے اُس کی کوئی حیثیت نہیں تمام کو هالكة الذات اور باطلة الحقيقت خيال کرنا۔( ہر چیز جو ہے وہ ہلاک ہونے والی ہے اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ختم ہونے والی ہے اور اُس کی کوئی حقیقت نہیں، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سب جھوٹ ہے۔) دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا ( کہ رب صرف ہمارا خدا ہے وہی ہمارا پالنے والا ہے اور وہی ہے جس کو خدائی طاقت حاصل ہے جو تمام طاقتوں کا سر چشمہ اور منبع ہے )۔فرمایا اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں یہ مختلف قسم کے جو پالنے والے نظر آتے ہیں یا جن سے ہم فائدہ اُٹھاتے ہیں ) یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا یہ سب لوگ بھی ، جن سے ہمیں فائدہ دنیا میں مل رہا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہی مل رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے نظام کا ایک حصہ ہیں۔) تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا۔اور اسی میں کھوئے جانا۔( یعنی عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی کرنا۔) ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350) پھر بیعت کی دوسری شرط ہے۔یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہوگا اگر چہ کیساہی جذ بہ پیش آوے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 اشتہار تکمیل تبلیغ ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: سواصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ان نفسانی اغراض سے علیحدہ نہ ہو جو راست گوئی سے روک دیتے ہیں ( جو سچائی سے روکتے ہیں ) تب تک حقیقی طور پر راست گو نہیں ٹھہر سکتا۔کیونکہ اگر انسان صرف ایسی باتوں میں سچ بولے جن میں اس کا چنداں حرج نہیں ( کوئی حرج نہیں ) اور اپنی عزت یا مال یا