خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 175
خطبات مسر در جلد دہم 175 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء نے اس بیعت کا کیا حق ادا کیا ہے؟ آج ہمارے جائزہ اور محاسبہ کا دن بھی ہے۔بیعت کے تقاضوں کے جائزے لینے کا دن بھی ہے۔شرائط بیعت پر غور کرنے کا دن بھی ہے۔اپنے عہد کی تجدید کا دن بھی ہے۔شرائط بیعت پر عمل کرنے کی کوشش کے لئے ایک عزم پیدا کرنے کا دن بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے پورا ہونے پر جہاں اللہ تعالیٰ کی بے شمار تسبیح وتحمید کا دن ہے وہاں حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزاروں لاکھوں درودوسلام بھیجنے کا دن ہے۔پس اس اہمیت کو ہمیں ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور یہ اہمیت شرائط بیعت پر غور کرنے اور اس پر عمل کرنے سے وابستہ ہے۔اس چیز کی یاددہانی کے لئے میں آج پھر آپ کے سامنے شرائط بیعت اور ان شرائط کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہم سے آپ کیا چاہتے ہیں؟ اُس کی کچھ وضاحت پیش کروں گا۔پہلی شرط جو بیعت کرنے والا کرتا ہے، احمدیت میں شامل ہونے والا کرتا ہے، جس پر عمل کرنے کا عہد کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ” بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اُس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے ، شرک سے مجتنب رہے گا۔شرک سے بچتا رہے گا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 اشتہار تکمیل تبلیغ ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا اله الا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کوخدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے۔ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔بت صرف وہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل ( کوئی بات کوئی چیز ، کوئی عمل ) جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بت ہے۔یادر ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔کوئی رازق نہ ماننا۔کوئی معز اور مدل خیال نہ کرنا۔( یعنی کوئی ایسا شخص خیال نہ کرنا جو عزت دینے والا ہے یا ذلیل کرنے والا ہے بلکہ