خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد دہم 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء ہوں جو قرآن شریف، حدیث صحیحہ کے موافق ہوں۔پھر مولوی صاحب کہنے لگے قرآنِ کریم جانتے ہو۔میں نے کہا جانتا ہوں۔پھر مولوی صاحب فرمانے لگے کہ قرآن کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ مجھے پتہ تھا یہ بحث کرنا چاہتا ہے، تو اس پر میں نے کہا نہیں، میں یہ نہیں بتاؤں گا۔پہلے پہلی بات کا فیصلہ کر لیں۔پھر مولوی صاحب نے کہا کہ ذلك الكتب کے کیا معنے ہیں۔میں نے پھر کہا کہ جس بات کے لئے ہم آئے ہیں وہ پہلے کریں۔سوال اکٹھے کریں۔آپ نے جو اعتراض کرنے ہیں وہ کریں۔میں نہیں بتاؤں گا۔پھر مولوی صاحب نے اگلا سوال کر دیا کہ قرآن کریم کی آیات کتنی ہیں؟ پھر بھی میں نے کہا کہ آپ پھر وہی بات دہرائی جا ر ہے ہیں۔پھر مولوی صاحب کہنے لگے میں کس طرح معلوم کروں کہ تم قرآنِ کریم جانتے ہو تو اس پر میں نے کہا کہ میں خدا کے فضل سے آپ سے بہتر قرآن جانتا ہوں۔جو تم سوال کرتے ہو ئیں حلفیہ کہتا ہوں کہ آپ کو پیچھے اسی مجلس میں بتاؤں گا۔( یعنی کہ اس مجلس میں ہی بیٹھ کر بتاؤں گا ) اور خلط مبحث نہیں کروں گا۔بلا وجہ کی بحث میں نہیں جاؤں گا۔مولوی صاحب: تفاسیر متقدمین اور احوال خلفاء کو نہیں مانتا۔میں نے کہا بڑی خوشی سے، یعنی کہ میں مانتا ہوں، اقوال حضرت ابو بکر، عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی کو مانتا ہوں بلکہ بہت سمجھتا ہوں۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ بِسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيَّيْن۔تم نے تو انہیں چار خلفاء پر خلافت کو محدود کر دیا ہے۔ہم تو مرزا صاحب کو خلیفۃ اللہ مانتے ہیں۔بلکہ اُن کے طریق کو نبی کریم کی سنت سمجھتے ہیں۔غرض یہ کہ اس ہیر پھیر میں آدھا گھنٹہ لگا دیا۔تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ قرآن کو سوائے تفسیروں کے سمجھ نہیں سکتے۔اس پر میں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ قرآن کا سمجھنا صرف تفسیروں پر ہوتا ہے۔تفسیروں کا سلسلہ بند ہو تو یہ سمجھا نہیں جائے گا۔خداوند تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا۔قرآنِ کریم کا تو یہ دعویٰ ہے کہ وَلَقَد يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ (القمر: 18) اور أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (النساء: 83) کسی کا محتاج نہیں۔خیر وہ مولوی صاحب جو اصل مدعا تھا اُس کی طرف نہیں آئے۔ادھر اُدھر ہاتھ پیر مارتے رہے۔آخر چیف نمبر دار نے کہا کہ وہ آیت قرآن کی پیش کریں جس سے مسیح کا آسمان پر چڑھ جانا اسی وجود کے ساتھ ثابت ہو۔مولوی صاحب نے کہا۔نمبر دار صاحب! میں آیت تو پیش کروں گا لیکن انہوں نے ماننا نہیں۔نمبر دار نے کہا کہ مولوی صاحب ! اگر یہ نہیں مانیں گے تو اور لوگ تو مانیں گے۔مولوی صاحب مجبور ہوئے اور بولے کہ قرآن شریف منگاؤ۔اُس وقت ایک مترجم حمائل دہلی کے چھاپہ کی منگوائی گئی۔مولوی صاحب کے ہاتھ میں دی گئی۔ہاتھ میں لیتے ہی بولے کہ یہ مرزے کا قرآن ہے۔اس کو میں نہیں لیتا۔پھر اس کو میں نے کہا کہ ہرگز مرزا صاحب کا قرآن نہیں۔