خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 151

خطبات مسرور جلد دهم 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء کیا۔یہ واقعہ جب میں نے حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب کو سنایا تو اُن کے دل پر بھی اس کا خاص اثر ہوا۔چنانچہ انہوں نے اس وقت ایک کارڈ (یعنی اُس زمانے میں خط کے لئے کارڈ ہوتے تھے ) حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ مسیح موعود ہیں۔یہ کارڈ جب حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچا تو حضور نے مولوی عبد الکریم صاحب کو حکم دیا کہ لکھ دو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو دیا۔اس کارڈ میں مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنی طرف سے بھی ایک دو فقرے لکھ دیئے۔جن کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے خدا کے مسیح کو قسم دی ہے۔اب آپ یا تو ایمان لاویں یا عذاب خداوندی کے منتظر رہیں۔وہ کارڈ جب پہنچا تو میاں محمد موسیٰ صاحب نے اپنی اور اہل و عیال کی بیعت کا خط لکھ دیا۔اس طرح سے ( کہتے ہیں ) میں اب اکیلا نہ رہا بلکہ میرے ساتھ خدا تعالیٰ نے اُن کو بھی شامل کر دیا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 136 - 137 روایت منشی قاضی محبوب عالم صاحب) پھر منشی قاضی محبوب عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ ملاہور میں ایک وکیل ہوتے تھے اُن کا نام کریم بخش عرف بکرا تھا۔( یہ پتہ نہیں کیا نام رکھا ہے ) وہ بڑی مخش گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) کو دیا کرتے تھے۔( بڑی گندی گالیاں دیتے تھے۔ایک دن دوران بحث اُس نے کہا کہ کون کہتا ہے مسیح مر گیا۔میں نے جواباً کہا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ مسیح مر گیا ( یعنی حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔اُس نے اچانک ایک تھپڑ بڑے زور سے مجھے مارا۔اس سے میرے ہوش پھر گئے اور میں گر گیا۔جب میں وہاں سے چلا آیا تو اگلی رات میں نے رویا میں دیکھا کہ کریم بخش عرف بکرا ایک ٹوٹی ہوئی چار پائی پر پڑا ہے اور اس کی چار پائی کے نیچے ایک گڑھا ہے۔اُس میں وہ گر رہا ہے اور نہایت بے کسی کی حالت میں ہے۔صبح میں اُٹھ کر اُس کے پاس گیا اور میں نے اُسے کہا کہ مجھے رویا میں بتایا گیا ہے کہ تو ذلیل ہو گا۔چنانچہ تھوڑے عرصے کے بعد اُس کی ایک (بیوہ) لڑکی کی وجہ سے جس کو ناجائز حمل ہو گیا اُسے بڑی ذلت اٹھانی پڑی اور اُس کی جو ابارشن وغیرہ کرائی تو اُس کی وجہ سے بیٹی بھی اُس کی مرگئی۔پولیس کو جب علم ہوا تو اس کی تفتیش ہوئی۔اُس کا کافی روپیہ بھی خرچ ہوا۔کہتے ہیں اُس کی عزت برباد ہوئی۔شرم کے مارے گھر سے نہیں نکلتا تھا۔پھر میں نے اُس کو آواز دے کر ایک دن کہا کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گندی گالیاں دیا کرتے تھے یہ اس کا وبال چکھ لیا ہے۔تو بہر حال اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 206 تا 207 روایت منشی قاضی محبوب عالم صاحب)