خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 144 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 144

خطبات مسرور جلد دہم 144 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء ہے۔اُس وقت اس بات کو قبول کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی اس زمانے کے مجدد ہیں۔) اپنے دوستوں اور واقف اور ناواقفوں میں بڑی سرگرمی کے ساتھ اشاعت شروع کی اور ایک طویل اشتہار بھی چھاپا جس کی نقل زمانہ حال میں (جب وہ لکھ رہے ہیں کہتے ہیں ) اخبار الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔( لکھتے ہیں کہ ) میرے والد صاحب نے علاوہ تبلیغی اشاعت کے خود اور اپنے مریدوں سے مالی خدمت میں بھی حصہ لیا۔ان کی زندگی کا آخری زمانہ اسی خدمت میں گزرا کہ جس قدر ہو سکے چندہ دیں اور اشاعت کریں۔“ (رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 1 روایت حضرت پیر محمد افتخار احمد صاحب) اور یہی اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج علاوہ کتابوں کے، دوسرے لٹریچر کے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بھی اللہ تعالیٰ مختلف زبانوں میں دین کی اشاعت کروا رہا ہے۔ابتدا میں جب کبھی ایم ٹی اے کا سیٹیلائٹ شروع ہوا تو ایک سیٹیلائٹ تھا اور وہ چند گھنٹوں کے لئے تھا۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دس سیٹیلائٹس پر ایم ٹی اے کے پروگرام دنیا میں ہر جگہ نشر ہورہے ہیں۔بلکہ انڈیا میں جہاں بڑے ڈشوں کی ضرورت پڑتی تھی ، اب وہاں بھی کوشش ہو رہی ہے اور ایک ایسا سیٹیلائٹ لے رہے ہیں کہ جہاں انشاء اللہ تعالیٰ جلد ہی چھوٹے ڈش سے، ڈیڑھ دو فٹ کے ڈش سے انشاء اللہ تعالیٰ ایم ٹی اے سنا جایا کرے گا۔بہر حال اب روایتوں پر آتا ہوں۔حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب ولد حکیم محمد حسین صاحب ( مریم عیسی ) فرماتے ہیں کہ بچپن سے مجھے تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ستمبر 1903 ء تک میرے والد بزرگوار بھائی دروازہ لاہور پٹ رنگاں محلہ میں رہتے تھے۔اس زمانے میں ایک دفعہ والد صاحب کے پاس ایک احمدی ابوسعید عرب بھی آیا تھا۔اُس نے میرے دینی اور تبلیغ کے شوق کو دیکھ کر مجھے کچھ آسان رنگ کے دلائل وفات مسیح ناصری اور آمد مسیح موعود علیہ السلام کے سکھلائے تھے۔میں ان دلائل کو اکثر مسجد کے اماموں کے سامنے جا کر پیش کرتا اور کہتا کہ ان کا جواب دو۔ایک دفعہ انہی ایام میں بھائی دروازہ کی اونچی مسجد کے امام کے پاس گیا اور اُس کے سامنے بھی وہ دلائل پیش کئے تو اُس نے مجھے کہا کہ ہم تب تمہاری بات کا جواب دیں گے اگر تم مرزا صاحب کے ساتھ ایسے وقت کہ گرداُڑ رہی ہو ، چلو، اور جب وہ گھر جانے لگیں تو دیکھو کہ کیا اُن کے چہرہ پر دوسرے لوگوں کی طرح گرد و غبار ہے یا نہیں؟ ( یعنی یہ شرط لگائی کہ سیر پر ساتھ جاؤ، باہر نکو اور یہ دیکھو جب مٹی اڑ رہی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرے پر وہ مٹی آ کے پڑتی ہے کہ نہیں)۔اگر تم خود مرزا صاحب کے متعلق اس کو دیکھ کر بتلاؤ تب میں تمہیں اس کا ย