خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 138

خطبات مسر در جلد دہم 138 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء ایک درجہ ہوتا ہے) جیسا کہ سورۃ المؤمن میں۔وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إيمانه (المومن: 29)۔آیا ہے۔آپ نے بہت اچھا کیا کہ موقع شناسی کر کے شریروں سے اپنی جان بچا (رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 12 صفحہ 167 ، 170 تا 172) لی پس یہ داستانیں ہیں جو احمد یوں پر سختی کی داستانیں ہیں، انہیں حق سے ہٹانے کی داستانیں ہیں، انہیں خوفزدہ کرنے کی داستانیں ہیں۔یہ پرانے قصے نہیں بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا آج ایک سو تنیس سال گزرنے کے بعد بھی یہی کچھ احمدیوں سے روا رکھا جارہا ہے لیکن احمدیت کا قافلہ اللہ تعالی کے فضل سے اس سب مخالفت کے باوجود آگے سے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتا چلا جائے گا۔دنیا میں ہر جگہ احمدی اپنے ایمان کے اظہار میں پختہ تر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھتے ہیں کہ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ خوف ہے تو خدا کا ، نہ کہ کسی مخلوق کا۔اللہ تعالیٰ افراد جماعت میں ایمانوں کی مضبوطی اور زیادہ پیدا کرے، اور ہمیشہ نہ صرف قائم رکھے بلکہ بڑھاتا چلا جائے۔آج پھر اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا ہے کہ نوابشاہ کے ہمارے ایک بزرگ احمدی مکرم چوہدری محمد اکرم صاحب ابن مکرم محمد یوسف صاحب کو شہید کیا گیا ہے۔یہ مضبوط ایمانوں والے جو خاص طور پر پاکستان میں اپنا نمونہ دکھاتے ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مکرم چوہدری محمد اکرم صاحب کے خاندان کا تعلق گوکھو وال ضلع فیصل آباد سے ہے۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دادا حضرت میاں غلام قادر صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سے ہوا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔چوہدری محمد اکرم صاحب کی پیدائش گوکھو وال ضلع فیصل آباد کی ہے۔جب پرسوں آپ کی شہادت ہوئی ہے تو آپ کی عمرانی (80) سال تھی۔آپ اپنے دیگر بھائیوں اور والد صاحب کے ساتھ آبائی زمین جو کہ جھول خانپور میں تھی ، وہاں زمیندارہ کرتے تھے۔پھر 1960ء میں زمینیں بیچ کے نوابشاہ چلے گئے۔2005ء میں آپ اہلیہ کے ساتھ آسٹریلیا شفٹ ہو گئے کیونکہ وہاں ان کے بچے تھے اور گزشتہ سال نومبر سے پاکستان آئے ہوئے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا۔29 فروری 2012 ء کو آپ اپنے نواسے عزیزم منیب احمد ابن مکرم رفیق احمد صاحب کے ساتھ دو پہر تقریباً ایک بجے جو ان کے داماد کی دکان تھی نوابشاہ میں ہی وہاں سے واپس