خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 6

خطبات مسر در جلد دہم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء معیار، اپنی محبوب چیزوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے معیار، صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگیوں کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو گئے۔یا زیادہ سے زیادہ صرف ایک دو نسلوں تک نہیں چلتے رہے بلکہ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی قربانی کے یہ ذوق و شوق اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم ہیں۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر نئے آنے والے مختلف ممالک کے احمدیوں میں اپنا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی لگتا ہے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔آج جب دنیا مادی عیش و آرام اور سہولتوں کے لئے اپنے مال خرچ کرتی ہے یا خواہش رکھتی ہے تو احمدی اُن کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے دین کی خاطر قربانیاں دیتے چلے جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں احمدیوں کی یہ قربانیاں ہی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے ثبوت کے لئے کافی ہیں۔ایشیا، یورپ، افریقہ، امریکہ ہر جگہ یہ قربانی کے نظارے نظر آتے ہیں۔جو قربانیاں دینے والے لوگ ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر پوری طرح عمل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔پس جب تک ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے یہ کوشش جاری رکھیں گے، کوئی دشمن ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔انشاء اللہ۔از دیا ایمان کے لئے آجکل کی قربانیوں کے بھی چند واقعات میں پیش کرتا ہوں۔یہ پہلا واقعہ میں نے انڈیا کے ناظم مال صاحب کی وقف جدید کی رپورٹ سے لیا ہے۔کہتے ہیں خاکسار اور انسپکٹر وقف جدید بجٹ بنانے کے سلسلے میں جماعت کیرولائی، کیرالہ میں دورے پر گئے۔جب پہنچے تو ایک مخلص دوست سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا میں نے ابھی ابھی فرنیچر کا نیا کاروبار شروع کیا ہے۔میرا نئے سال کا وعدہ وقف جدید چار لاکھ روپے لکھ لیں۔اس کے علاوہ اس بزنس سے جو بھی مجھے منافع ہوگا ، علاوہ اور چندوں کے اس کا بھی دس فیصد میں چندہ وقف جدید مزید ادا کروں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا، اُن کا نیا بزنس چل پڑا۔انہوں نے اپنی بیوی کو ہدایت کی تھی کہ روز کی کمائی سے چندہ جات کا، جتنے بھی چندے ہیں اُن کا الگ حساب نکال کر رکھ لیں۔اور سال بھر کا جب حساب کیا گیا تو ساڑھے پانچ لاکھ روپیہ وقف جدید کا نکلا جو انہوں نے ادا کر دیا اور آئندہ سال کے لئے کہا کہ آئندہ سال میں دس فیصد کی بجائے منافع کا جو پچیس فیصد ہے وہ چندوں میں ادا کروں گا۔پھر انڈیا سے ہی وقف جدید کے انسپکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ مارچ 2011ء میں خاکسار جماعت احمد یہ ہتھاری تشخیص بجٹ وقف جدید کے لئے پہنچا جہاں ایک خاتون کو جب تحریک کی اور احمدی اور مسلمان مستورات کی جانی اور مالی قربانیوں کے بارے میں واقعات سنائے تو انہوں نے اپنی ایک ماہ