خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد دهم 108 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء احمدی اپنا کر دار ادا کرنے والا بنے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرب ممالک میں بھی یہ نظام قائم ہے۔ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی یہ نظام قائم ہے۔افریقہ میں بھی یہ نظام قائم ہے۔یورپ میں بھی یہ نظام قائم ہے۔امریکہ میں بھی یہ نظام قائم ہے۔آسٹریلیا میں بھی یہ نظام قائم ہے اور جزائر میں بھی یہ نظام قائم ہے۔پس جہاں جہاں بھی احمدی ایک جماعت قائم کر کے اس نظام کا حصہ بنے ہیں وہاں وہ اس بات کی طرف بھی خاص توجہ دیں کہ صرف اپنی ذات کی اصلاح تک ہم نے محدود نہیں رہنا، اپنی اگلی نسلوں کو بھی سنبھالنا ہے، اُن کے دل میں بھی یہ چیز راسخ کرنی ہے کہ تم نے اس نظام کا حصہ بنتے ہوئے اپنے عظیم مقصد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہراتے ہوئے توحید کا قیام ہے، اُسے کبھی نہیں بھولنا اور اس کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا ہے۔اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک اس مقصد کو حاصل نہ کر لو۔اپنی اگلی نسلوں میں یہ روح پھونکتی ہے کہ اس عظیم مقصد کو کبھی مرنے نہیں دینا۔پس جیسا کہ میں نے کہا آج دنیا کے ہر کونے میں جماعت احمدیہ کا قیام ہے اور قادیان سے اُٹھنے والی آواز دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے اور اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے میں باوجود نامساعد حالات کے بہت بڑا ہاتھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔تو جب مصلح موعود کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر جلسے کرتے ہیں تو اپنے عزم اور اپنے پروگراموں کی ایک ایسی روح پیدا کریں کہ جو آپ کے جذبوں کی نئے سرے سے تجدید کرنے والی ہو اور اُن خواہشات کو بھی سامنے رکھیں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمائی ہیں۔اور جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ ہر مسلمان ملک کا رہنے والا احمدی یہ بھی کوشش کرے کہ ہم نے اسلامستان قائم کرنا ہے۔وہ اسلامستان بنانا ہے جو ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعلمین تھے وہ بنانا چاہتے تھے۔وہ اسلامستان بنانا ہے جو اپنوں اور غیروں کے حقوق ادا کرتے ہوئے انسانیت کی قدریں قائم کرنے والا ہوتا دنیا کو یہ پتہ چلے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت تھے اور یہی ایک بہت بڑا کام ہے جو ہم نے دنیا کو بتانا ہے جو اس دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ہر اسلامی ملک کو یہ باور کرانا ہے۔یہ بھی ہمارا مقصد ہے کہ یہ باتیں تھیں جن کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے اور یہ وہ مشن ہے جس کی تکمیل کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور یہ کام ہے جو آج جماعت احمدیہ نے کرنا ہے اور ہم نے ہر مسلمان کو، ہر اسلامی ملک کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ ہمارے مقاصد ہیں۔اگر ہماری مخالفت میں یہ لوگ ہماری بات نہیں سنتے تو تڑپ تڑپ کر ان کے لئے دعا کرنی ہے۔دعا سے تو ہمیں کوئی نہیں روک سکتا کہ یہ اس بات کو سمجھنے