خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 80

80 تیسری صورت اپنے ان مظلوم بھائیوں کی مدد کی یہ ہے کہ ہم خود امیر صاحب کابل کو بھی اور ان کی ہم خیال رعایا کو بھی اس طرف توجہ دلائیں۔اس کے متعلق بھی ہماری طرف سے کوشش جاری ہے۔اس کے متعلق میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔چوتھی بات یہ ہے کہ جن خیالات کی بناء پر اس ملک میں ہمارے مظلوم بھائیوں پر یہ مصیبت آئی ہے ان خیالات کا مقابلہ کیا جائے۔یعنی ان خیالات کی بڑھتی ہوئی رو کو روکا جائے۔تا کہ اس ملک میں اتنے احمدی ہو جائیں کہ ان کو مارنا گویا ملک کو تباہ کر دینے کے برابر ہو۔ان کی اتنی کثرت ہو جائے کہ اگر کسی جگہ ان پر ظلم ہو تو دوسرے ان کی ہمدردی کرنے کے لئے کھڑے ہو سکیں۔اور ظالموں کو آپس کی لڑائی کے خوف سے یہ موقع نہ ملے کہ وہ احمدیوں پر ظلم کر سکیں۔اس کی بھی تجویز کی گئی ہے۔پانچویں بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدد کریں۔جن کو ان مظالم کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔خواہ وہ ان شہیدوں کے رشتہ دار ہوں خواہ دوسرے۔یہ بھی بہت نازک سکیم ہے۔کیونکہ اگر ذرا بھی مدد کا پتہ لگ گیا یا وہ احمدی جن کی ہم مدد کریں ظاہر ہو جائیں۔تو خطرہ ہے کہ نہ صرف ہم ان کی مدد ہی نہ کر سکیں گے بلکہ ان کی جانیں بھی خطرہ میں ڈال دیں گے۔اس لئے ہمیں ایسی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی کہ جو مدد ہم ان کی کریں وہ خطرات کا باعث نہ ہو۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب کے والد کی تو کچھ مدد کی بھی گئی ہے اور بقیہ شہیدوں کے رشتہ داروں کی مدد کی بھی تجویز ہے جو کہ کسی مخفی طریق سے ہی کی جا سکتی ہے۔چھٹی صورت اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کی یہ ہے کہ ان شہداء کی نعشیں حاصل کر کے یہاں یا وہاں ان کو باقاعدہ دفن کیا جائے۔یہ بھی ہمدردی کا ایک پہلو ہے۔اور اس کے متعلق ابھی حکومت کابل سے ہماری خط و کتابت ہو رہی ہے۔اگر انہوں نے ان شہیدوں کے وہاں یا یہاں دفن کرنے کی اجازت دیدی تو ہم ان کے ممنون ہوں گے۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہمیں کوئی اور صورت اختیار کرنی پڑے گی جس سے ہم اپنے شہداء کی نعشیں حاصل کر کے دفن کر سکیں۔لیکن ابھی کسی ایسی تجویز پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ ابھی ہماری اور ان کی باقاعدہ خط و کتابت ہو رہی ہے۔اگر انہوں نے اس بات کو منظور نہ کیا تو کسی اور تجویز پر بعد میں عمل کرنے کی تیاری کی جائے گی۔پس اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد میں جو کچھ ہم سے ہو سکتا تھا وہ ہم نے کیا۔اور موجودہ حالات کے ماتحت جو ہم کر سکتے ہیں وہ کیا جا رہا ہے۔مگر اس وقت جماعت جو سب سے بڑی ہمدری اپنے -