خطبات محمود (جلد 9) — Page 377
377 کئی پاس بیٹھنے والے ادھر توجہ کرنا تو درکنار اپنی باتوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔جب کوئی شخص بیعت کے لئے آتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ سب کچھ قربان کرنے کے لئے آتا ہے اور جب کوئی دیکھتا ہے کہ یہ شخص خدا کے آستانہ پر اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے آیا ہے۔تو اس وقت ہر وہ شخص جس کے اندر خشیت اللہ ہوتی ہے۔اس بات کو دیکھ کر کانپ جاتا ہے۔مگر مجھے تعجب ہے کہ موجود ہوئے رالے شخصوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ اس کا خیال ہی نہیں کرتے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں بیعت کا احترام نہیں اور جب بیعت ہوتے وقت اس کا احترام نہیں کرتے تو دوسرے مواقع پر ان سے کب امید ہو سکتی کہ وہ بیعت کو پورا کریں گے اور مسجد کے احترام کا خیال رکھیں گے۔میں اگر مسجد میں بیٹھتا ہوں تو جائز اور ضروری قومی کاموں کو سرانجام دینے کے لئے بیٹھتا ہوں۔اس موقع کو ادھر ادھر کی باتیں کرنے کا موقع نہیں بنا لینا چاہئے۔انسان اگر غور سے دیکھے کہ وہ پیدا کیوں کیا گیا تو اس کو اپنی کمزوریوں اور نقصوں کا پتہ چلے۔انسان کی پیدائش کی غرض یہی ہے۔جو و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریت ۵۷) میں بیان ہوئی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ از ان معبود حقیقی کا پورا پورا عبد ہے اور پھر سورۂ فاتحہ میں بھی خدا تعالٰی فرماتا ہے۔اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم جس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔وہ راستہ جو تو نے ہم سے پہلے منعم علیہ گروہ کو کھایا۔جو تیرے پیارے مقرب کہلاتے ہیں۔وہ راستہ جو منعم علیہ گروہ کو دکھایا گیا تھا۔وہ راستہ میں تھا کہ ان کے دل خدا کی صفات کے جلوہ گاہ بن گئے تھے۔ان کے قلوب انوار الہی کے جاذب ہو گئے تھے۔ان کے کان خدائی آوازوں کو سنتے تھے۔ان کی آنکھیں خدا تعالیٰ کے جلال کو دیکھتی تھیں۔پس یہ چیز ہے جس کے لئے انسان پیدا ہوا۔جس کے لئے انبیاء آئے۔جس کے لئے خدا تعالیٰ نے طرح طرح سے دنیا کی رہنمائی کی اور جب تک یہ عرض حاصل نہیں ہوتی۔تب تک انسان اپنی پیدائش کی غرض کو نہیں پا سکتا۔ایسا انسان اپنی جان و مال کو خطرہ میں ڈالتا ہے لیکن باوجور اس کے اسے یہ مقصد نہیں ملتا۔وہ اپنا سب کچھ اس لئے قربان کرتا ہے کہ اس مقصد کو پالے لیکن سب کچھ قربان کرنے کے باوجود صرف بعض باتوں میں سستی کرنے سے اس مقصد کو گنوا لیتا ہے اور ایسے لوگ باوجود قربانیوں کے کچھ حاصل نہیں کرتے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہر ایک پہلو سے احتیاط کرے اور اس کے لئے نماز کے سوا ذکر الہی ایک عمدہ ذریعہ ہے۔پس جماعت کو چاہئے کہ ذکر الہی میں بھی اپنے اوقات خرچ کرے تا 25