خطبات محمود (جلد 9) — Page 374
374 ایسے لوگ جو ساری نمازیں مسجدوں میں نہیں پڑھتے۔اکثر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر ساری نہیں تو قریباً ساری نمازیں ہم مسجد میں پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک دو نمازیں مسجد میں نہیں پڑھتے تو کیا ہوا۔مگر یہ قریبا" کا لفظ کوئی عذر نہیں۔کیونکہ ضرورت تو ہے پانچوں نمازوں کے مسجد میں پڑھنے کی۔کیا ایسے لوگ اپنے دوسرے کاموں میں بھی قریباً کے لفظ سے اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔کوئی شخص اس بات پر مطمئن ہو کر نہیں سو سکتا کہ قریبا تمام دروازے مکان کے بند ہیں۔مثلاً اگر ایک امیر آدمی جس کے پاس کثرت سے مال و دولت ہو اور جسے حفاظت کی ضرورت ہے۔نوکر سے پوچھے کہ تمام دروازے بند ہو گئے اور نوکر کے جی قریباً تمام بند ہو گئے تو جانتے ہو وہ اس سے کیا سلوک کرے گا۔وہ ہرگز اس جواب سے مطمئن نہیں ہوگا اور جب تک سب دروازوں کو بند نہ کرا لے گا تب تک وہ اپنے آپ کو امن میں نہیں سمجھے گا۔پس ایسے موقعوں پر جس طرح تمام دروازوں کے بند کرنے کی ضرورت ہو قریباً کا لفظ نہیں سنا جاتا۔اس کے لئے ایک قطعی جواب کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہاں سب بند ہو گئے۔اسی طرح نماز کے لئے قریباً کہہ دینا کافی نہیں۔کیونکہ قریباً کے لفظ میں شک کی گنجائش ہے اور حفاظت کے لئے شک مضر ہوتا ہے۔ایسے موقعوں پر تو یقین اور وثوق چاہئے۔پس جس طرح وہ امیر آدمی جسے حفاظت کی از حد ضرورت ہے جب تک تمام دروازے بند نہ ہوں مطمئن نہیں ہوتا۔اسی طرح وہ جماعت بھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس کے سب کے سب افراد ایسے نہ ہوں جو احکام دین پر پورا عمل کریں۔پس ہمیں خوش نہیں ہونا چاہئے کہ قریبا تمام نمازیں باجماعت پڑھتے ہیں بلکہ ہمیں پوری پانچوں نمازیں باجماعت پڑھنی چاہئیں اور ایسا ہی بلحاظ افراد کے بھی ہمیں یہ کہہ کر خوش نہیں ہونا چاہئے کہ ہم میں سے زیادہ لوگ نماز پڑھتے ہیں یا زیادہ لوگ نماز باجماعت ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ زیادتی بھی کسی کام نہیں آ سکتی جب تک کلیت نہ ہو۔پس کلیت پیدا کرنے کی کوشش کرو اور تمام کے تمام نمازیں پڑھو اور باجماعت نمازیں پڑھو۔اس کے بعد میں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح باجماعت نماز پڑھنا شریعت کا حکم ہے اور باجماعت نماز پڑھنا نہایت ضروری ہے۔اسی طرح مساجد کا احترام اور ادب بھی نہایت ہی اہم اور ضروری ہے۔مساجد اس لئے ہیں کہ ان کے اندر خدا کا ذکر کیا جائے اور اس کا نام لیا جائے۔ان میں ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دینا ان کے احترام اور ادب کے منافی ہے۔پس مسجدوں میں آکر ان کا ادب و احترام کرنا چاہئے اور ان کا ادب و احترام یہی ہے کہ ماسوا ان امور کے