خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 373

373 ہے پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ کیونکر لوگ اس بات کو پسند کر لیتے ہیں کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھیں کیونکہ حکم یہی ہے کہ نماز قائم کرو اور جب محکم یہی ہے کہ نماز باجماعت ادا کرو تو جب تک انسان باجماعت نماز ادا نہ کرے۔وہ اس فرض کی ادائیگی سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔۔ހ پھر بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ اگر ہم دو یا تین یا چار نمازیں باجماعت ادا کر لیتے ہیں تو ہم نے فرض ادا کر دیا۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں فرض ادا ہو گیا لیکن در حقیقت یہ فرض ادا نہیں ہوتا۔یہ تو ستی ہے اور میرا بھی یہی شکوہ تھا کہ وہ نمازوں میں آنے میں سستی کرتے ہیں اور اسی کو مد نظر رکھ کر میں نے نصیحت بھی کی تھی لیکن افسوس کہ ابھی ایسے آدمی ہیں جو اسے ترک نہیں کرتے۔پس ایسے لوگوں کا یہ خیال بھی غلط خیال ہے کہ تین یا چار نمازیں باجماعت پڑھ لینے سے فرض ادا ہو گیا۔نمازیں پانچ مقرر کی گئی ہیں اور اقامت کا حکم بھی پانچوں ہی کے لئے ہے اور پانچوں ہی کو باجماعت پڑھنا چاہئے اور ہر شخص پر پانچوں ہی کو باجماعت پڑھنے کا فرض یکساں طور پر عائد ہوتا ہے۔سوائے اس شخص کے جو مجبور ہو یا بیمار ہو۔یا کسی اور سبب سے نہ آسکتا ہو۔مثلا " تیمار دار ہے۔یا ڈاکٹر ہے کہ وہ مریض کے دیکھنے کے لئے جا رہا ہے۔جس کی حالت خطرناک ہے اگر وہ رکے تو مریض کی جان کا خطرہ ہے یا کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص مسجد میں نہیں آسکتا کیونکہ حادثوں کی وجہ سے بھی بعض ایسی مجبوریاں پیش آجاتی ہیں کہ ایک شخص نماز با جماعت نہیں پڑھ سکتا یا پھر کوئی اور ایسی مجبوری پیش آگئی ہو جس کے سبب وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے قاصر ہے تو وہ اکیلا بھی پڑھ سکتا ہے۔لیکن اس قسم کی مجبوریوں کے سوا اگر ایک وقت میں بھی کوئی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتا تو وہ غلطی کرتا ہے۔ایسا شخص جو مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتا اور بلا وجہ گھر ہی میں پڑھتا ہے وہ اپنی محنت ضائع کرتا ہے۔کیونکہ گھر میں نماز ہوتی ہی نہیں اور گھر میں اگر کوئی شخص ایک گھنٹہ بھی نماز پر خرچ کر دے تو بھی وہ اس نماز کے برابر نہیں ہو سکتی۔جس پر مسجد میں پندرہ منٹ ہی صرف کرے۔کیونکہ گھر کی نماز جس پر اس نے ایک گھنٹہ خرچ کیا۔حقیقی نماز نہیں ہوگی۔اور مسجد کی نماز کہ جس پر اس نے صرف پندرہ منٹ لگائے حقیقی نماز ہوگی۔پس جب گھر میں گھنٹہ خرچ کرنے پر بھی نماز حقیقی نماز نہیں ہو سکتی تو جو لوگ گھروں پر ہی نماز پڑھتے ہیں۔انہیں اس پر خوش اور مطمئن نہیں ، ہونا چاہئے کہ نماز پڑھ لی۔ان کی نماز تب حقیقی نماز ہوگی جب وہ مسجد میں پڑھیں گے ورنہ بغیر اس کے ان کی نماز حقیقی نہیں ہے۔