خطبات محمود (جلد 9) — Page 363
363 چاہئے۔آج کل ہوائی جہازوں اور توپ کے گولوں اور دیگر اسی قسم کی ایجادوں سے پل بھر میں ایک عالم کو تباہ کر دیا جا سکتا ہے۔اس لئے آپ کی قبر کی حفاظت کا سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے۔پس اگر ان ہوائی جہازوں ، توپ کے گولوں اور سرنگوں وغیرہ کے ذریعے آپ کے جسم کو نکال لے جانے کے منصوبوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اور بھی گنبد بنانے پڑیں اور اگر اور بھی ایسی تدابیر اختیار کرنی پڑیں جن سے کما حقہ حفاظت ہو جائے تو وہ شرک نہیں ہوگا۔بلکہ عین اسلام ہو گا۔بیشک جو حکومت وہاں ہو وہ ان لوگوں کو جو مشرک ہوں شرک کرنے سے روکے یا ان کو وہاں سے نکال دے مگر مزار رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے پورے سامان کئے جائیں۔پس اگر ابن سعود ایسا کریں یعنی آنحضرت ا کے مزار کی حفاظت ہر طرح کریں اور ایسا ہی دوسرے ضروری مقامات کی بھی تو ہمیں ان سے اتفاق ہے۔کیونکہ یہ لوگ ایک حد تک اصلاح کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں۔ان چیزوں سے جو مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہیں یا جن کی غرض نصیحت یا عبرت دلانا ہوتی ہے۔ہمیں ایک حد تک اتفاق بھی ہے اور ایک حد تک اختلاف بھی۔اتفاق تو اس لئے ہے کہ یہ حفاظت کی غرض اور بعض دوسری مفید غرضوں کے لئے بنائی جاتی ہیں۔اس لئے یہ ضروری ہیں اور اختلاف ان کی پرستش کے متعلق ہے اور شرک پھیلنے کے لئے ہے اور یہ اختلاف خود حنفیوں میں بھی ان مقامات کے متعلق موجود ہے۔لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک گروہ ان کے ذریعے شرک میں پھنس رہا ہے پس ہمارا حق ہے کہ ہم انہیں سمجھائیں اور اس غلط طریق سے جسے وہ اختیار کر رہے ہیں بچائیں۔باقی یہ کہنا کہ چونکہ حضرت عمرؓ نے اس درخت کو جس کے نیچے صلح حدیبیہ کے وقت بیعت ہوئی تھی۔کاٹ ڈالا تھا اس لئے قبوں کو بھی گرا دینا چاہئے۔درست نہیں۔معلوم نہیں اس وقت کیا حالات تھے اور حضرت عمرؓ کو کیا ضرورت پیش آئی تھی اور اس درخت کے قائم رہنے سے واللہ اعلم ان کے نزدیک کیا خطرہ تھا۔اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ حضرت عمر نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا۔اس لئے ہم اب تمام مقبروں اور تمام قبوں اور تمام قبروں اور تمام ان مقامات کو گراتے ہیں۔جو کسی نہ کسی وجہ سے اس قابل ہیں کہ قائم رہیں۔خواہ رسول اللہ ﷺ نے ہی کسی کی بنیاد کیوں نہ رکھی ہو۔یا خواہ خدا تعالیٰ نے ہی اسے اپنے شعائر میں سے کیوں نہ قرار دیا ہو۔پس ایسی باتیں اس قوم کے منہ سے اچھی نہیں لگتیں جو شرک کے مٹانے کا دعویٰ رکھتی ہو۔کیونکہ شرک تو اس لئے مٹایا جاتا ہے کہ توحید پھیلے لیکن جب توحید ہی کو پھیلانے کے ذرائع منقطع