خطبات محمود (جلد 9) — Page 344
344 ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں تین دفعہ نہیں چار دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ میں نے خطبات میں۔درس میں۔تقریروں میں کہا ہے کہ نمازیں مسجدوں میں باجماعت پڑھو۔اور خاص کر صبح اور عشاء کی نمازیں ضرور ہی مسجدوں میں پڑھا کرو لیکن افسوس کہ بعض لوگ نہیں مانتے۔اس لئے اب یہ ضروری ہے کہ آخری علاج کیا جائے اور وہ آخری علاج سوائے اس کے نہیں کہ ایسے منافقوں کو الگ کر دیا جائے تاکہ لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ یہ منافق ہیں۔آنحضور الله کے زمانہ میں بھی منافقین کو الگ کر دیا گیا تھا۔پس یہاں بھی جب یہی کیا جائے گا تو کچھ اثر ہو گا۔اس کے سوا مجھے کوئی اور تدبیر نظر نہیں آتی۔میں نے انہیں سختی سے بھی سمجھایا اور نرمی سے بھی سمجھایا۔عقل سے بھی سمجھایا اور دلیل سے بھی۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان پر اثر نہیں ہوتا۔باوجود ہر چند سمجھانے کے پھر بھی وہی کرتے ہیں۔جس پر پہلے قائم ہیں اور اس بات کو سمجھتے ہی نہیں کہ نماز باجماعت کے کیا فوائد ہیں۔اس لئے اس کا یہی علاج ہے کہ جو شخص اپنی اصلاح نہ کرے اور اس بات کی اہمیت نہ جانے کہ نماز باجماعت کی کس حد تک تاکید ہے۔اسے علیحدہ کر دیا جائے۔کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس سے دوسروں کو بھی جرأت ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کل جب ان لوگوں پر جو نماز باجماعت پڑھنے کی پرواہ نہیں کرتے کوئی گرفت نہیں ہوتی تو دوسرے بھی سستی کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی نمازوں کو بجائے مسجدوں میں پڑھنے کے گھروں میں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں چونکہ دوسروں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔اس لئے میری ذمہ داری کے لحاظ سے میرا یہ فرض ہے کہ میں ایسے لوگوں کو الگ کروں۔میں دیکھتا ہوں مہمان جو باہر سے آتے ہیں۔وہ بھی باجماعت نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔باہر سے تو دین سیکھنے کے لئے آتے ہیں مگر یہاں آکر نمازوں میں بھی سستی کرنے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ مسجد مبارک میں بھی جو بالکل مہمان خانہ کے قریب ہے نہیں آتے۔پھر قرآن شریف کا درس ہوتا ہے۔اس میں بھی نہیں آتے۔عام طور پر مہمان عشاء اور صبح کی نماز میں تو ضرور ہی سستی کرتے ہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں لیکن سفر سفر میں بھی فرق ہے عام سفر کی حالت اور قادیان کے سفر میں فرق ہے۔سفر میں بے شک قصر کر سکتا ہے لیکن قادیان میں چونکہ اور غرض کے لئے آتا ہے اور یہاں آنے سے اس کی غرض عبادت ہوتی ہے۔دین سیکھنا ہوتی ہے۔