خطبات محمود (جلد 9) — Page 292
۔292۔اس کا دل تسلی نہیں پکڑتا تو اسے گود میں اٹھائے پھرتی ہے غرض وہ اپنی عقل ، اپنی سمجھ اپنی طاقت کے مطابق ہر طرح اس کی حفاظت کرتی ہے اور اس سے تھکتی نہیں اور نہ ہی اس سے تکلیف محسوس کرتی ہے بھلا کسی ماں کو کہہ تو دیکھو کہ تو کیوں سردیوں میں تکلیف برداشت کرتی ہے۔کہ گیلی جگہ سوتی ہے اور بچہ کو سوکھی جگہ سلاتی ہے۔آپ سردی برداشت کرتی ہے اور اسے گرم رکھنے کے لئے بے چین رہتی ہے۔تجھے کیا پڑی ہے کہ یہ تکلیفیں اٹھاتی ہے۔بچہ اگر پیشاب کرتا ہے تو دھوتی ہے اور شکایت نہیں کرتی۔اس کی خاطر اپنی نیند خراب کرتی ہے۔ساری ساری رات اس کو آرام پہنچانے میں جاگتی ہے۔کوئی اگر کسی ماں سے یہ کہے کہ تو کیوں ایسا کرتی ہے تو دیکھو پھر کس طرح وہ پیچھے پڑتی ہے۔چونکہ وہ بچہ اسے محبوب ہوتا ہے۔اس لئے وہ اس کے لئے سب کچھ کرتی ہے۔پس جس چیز کی جتنی قیمت زیادہ ہوگی۔اتنی ہی اس کی حفاظت و نگرانی کی جائے گی۔ایمان جو ساری عزتوں سے بڑھ کر ہے۔جو سارے مالوں سے بڑھ کر قیمتی ہے۔جو ساری محبوب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔سب سے زیادہ حفاظت بھی چاہتا ہے۔جس طرح ایک شخص دوسری محبوب اور قیمتی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے اور تھکتا نہیں۔اس طرح ایمان کی بھی متواتر حفاظت ہونے چاہئے اور متواتر حفاظت کرتے ہوئے تھکنا نہیں چاہئے۔مگر افسوس ہے کہ لوگوں پر مختلف دور آتے ہیں۔ہم ایک وقت تو ایمان کی حفاظت کرتے ہیں۔مگر دوسرے وقت میں نہیں کرتے اگر ہمیں ایمان کی محبت ہے تو کیا وجہ ہے کہ جس طرح ہم روز روٹی کھاتے ہیں اور تھکتے نہیں۔روز پانی پیتے ہیں اور بیزار نہیں ہوتے۔روز سوتے ہیں مگر گرانی محسوس نہیں کرتے۔اسی طرح ایمان کی حفاظت نہیں کرتے۔ہم ایک وقت تو اس کی حفاظت کے کام کو اختیار کرتے ہیں مگر دوسرے وقت میں اسے ترک کر دیتے ہیں۔کیا وجہ ہے۔کہ ماں ہر روز بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اس دودھ پلانے سے وہ تھکتی نہیں مگر وہ ایک ایسی چیز کی حفاظت سے تھک جاتی ہے یا حفاظت کا نام ہی نہیں لیتی جو اس کے بچے سے بھی زیادہ قیمتی اور زیادہ محبوب ہے اور اس کے بچہ سے زیادہ حفاظت کی محتاج ہے۔ایمان بھی غذا سے پالتا ہے۔کبھی علم سے اسے غذا دی جاتی ہے اور کبھی عمل سے اسے پانی دیتے ہیں۔بغیر اس کے ایمان کمزور ہو جاتا ہے اور ایک نازک پودے کی طرح جو ذرا سی بے احتیاطی سے مرجھا جاتا ہے۔ذرا سی بے احتیاتی سے ضائع ہو جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ بعض افراد ایک وقت تو اس کی حفاظت کرتے ہیں مگر دوسرے وقت چھوڑ دیتے ہیں بعض جماعتیں ہیں جو ایک وقت