خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 264

264 شائد بعض لوگ کہہ دیں گے سرسید احمد خان صاحب بھی حضرت عیسیٰ کی وفات کا قائل تھا۔لیکن اس میں بھی فرق ہے۔سرسید اس لئے وفات مسیح کے قائل نہ ہوئے تھے کہ اس سے خدا تعالیٰ کی توحید پر اثر پڑتا ہے بلکہ اس لئے تھے کہ موجودہ زمانہ کی سائنس حضرت مسیح کی حیات کے خلاف تھی۔پس انہوں نے بھی اس مسئلے کی توحید پر بناء نہیں رکھی۔بلکہ نیچریت پر رکھی ہے۔دیکھو ایک دہریہ اور نیچری خدا کو نہیں مانتا۔وہ بھی وفات مسیح کا قائل ہو گا اور وہ ان معجزات کو بھی نہیں مانے گا۔جو حضرت مسیح کے متعلق بیان کر کے انہیں خدائی صفات میں شریک بنایا جاتا ہے لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ توحید الہی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے یہی حال سرسید احمد خاں کا تھا۔پس ایک شخص تو اس لئے مسیح کی حیات کا انکار کرتا ہے کہ خدا ہی نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس لئے اس کا انکار کرتے ہیں کہ خدا ہے اور اس کا قانون یہ ہے کہ سب کو وفات دے۔سرسید یورپ کے اعتراضات سے بچنے کے لئے حیات مسیح کا انکار کرتا تھا۔لیکن حضرت مرزا صاحب خدا تعالیٰ کے جلال کے لئے ایسا کرتے ہیں اور ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔دیکھو اگر کسی جگہ کچھ اسباب پڑا ہو۔اور اور ایک شخص اسے اٹھا لے کہ میں اس کے مالک کے گھر پہنچاؤں اور ایک اس لئے اٹھائے کہ میں اسے اپنے گھر لے جاؤں۔تو ایسے شخص ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔سید احمد صاحب نے اگر ایسی کوشش کی تو صرف یورپ والوں کے اعتراضات سے بچنے کے لئے لیکن حضرت مرزا صاحب نے خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لئے یہ کام کیا۔گو کام ایک ہی ہے۔لیکن نتائج کے لحاظ سے ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت تو دینی کہلائے گی۔اور سرسید کی قومی تو کہلائے گی لیکن دینی نہیں کہلا سکتی۔پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا کی توحید کو قائم کیا۔اس زمانہ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں اور یہ صرف نبیوں کا ہی کام ہے۔شائد بعض یہ کہیں کہ یہ جو کچھ مرزا صاحب نے کیا۔سب کچھ قرآن شریف میں موجود تھا مثلاً قرآن پکار پکار کر وفات مسیح کا اقرار کر رہا تھا۔پھر مرزا صاحب نے کیا کیا۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ قرآن شریف میں موجود تھا۔تو مولویوں نے کیوں نہ نکال لیا اور کیوں نہ اسے دنیا میں پیش کیا اور اس سے کام لیا۔اس سے تو مولویوں کی اور بھی زیادہ بیوقوفی کا ثبوت ملتا ہے کہ ایک چیز جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ موجود تھی لیکن باوجود اس کے موجود ہونے کے انہوں نے اسے استعمال نہ کیا۔افسوس ہے کہ مولویوں کے سامنے قبر پرستی ہوتی رہی۔مولویوں کے سامنے لوگ بت