خطبات محمود (جلد 9) — Page 228
228 29 تم میں سے ہر ایک اپنا فرض ادا کرتا چلا جائے (فرموده ۱۴ اگست ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : چونکہ میرے گلے میں کچھ تکلیف ہے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔مختصراً میں ایک ایسے معاملے کے متعلق کہ جو زندگی اور موت کا سوال ہو رہا ہے اور جماعت کے لوگ اس سے بے پرواہ ہو رہے ہیں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ سوال تبلیغ کا سوال ہے۔قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ قوم زندہ نہیں رہتی اور وہ قوم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔جو اپنی مذہبی اور دینی حیثیت قائم نہیں رکھتی اور ہرگز وہ اپنے اخلاق کو اس وقت تک درست کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ وہ قوم تبلیغ میں مشغول نہیں ہوتی۔ہمارا سارا کام اسی نقطہ کے گرد چکر کھاتا ہے اور اس مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔ہماری اور دوسروں کی اصلاح کا ذریعہ یہی ہے۔ہماری اور دوسروں کی فلاح اسی کے ذریعہ ہے۔وہ واحد غرض بھی کہ خدا تعالیٰ کے جلال کو پورے طور پر دنیا میں ظاہر کیا جائے۔اسی سے پوری ہو سکتی ہے اور آنحضرت نے جو فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود شیطان کو قتل کرے گا۔یہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود کے وقت تبلیغ و اشاعت کا کام بڑے زوروں سے شروع کیا جائے گا اور تبلیغ ہی ایک ہتھیار ہو گا جو فی الواقع شیطان کو قتل کرنے کے کام آئے گا۔اگر ہم اس کو استعمال کریں تو یہی وہ ہتھیار ہوگا جو ایک ہی وار میں ان تمام مقاصد کو پورا کر جاتا ہے۔اگر ہم اس کو چلائیں۔تو ایسا ہتھیار ہمارے نفسوں کی بھی اصلاح کرتا چلا جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اصلاح پانے کے قابل بناتا ہے۔وہ تبلیغ کی تلوار جو ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ہمارے لئے ہلاکتوں کے دروازوں کو بند کرتی ہے اور اس آگ کو دور کرتی ہے جو ہمارے ارد گرد ہوتی ہے۔کیونکہ جو شخص بھی ہماری