خطبات محمود (جلد 9) — Page 214
214 جہاں سے انہیں زیادہ روپیہ ملنے کی امید ہو اور یہ نہیں دیکھیں گے کہ لڑکی کے لئے وہ جگہ موزوں بھی ہے یا نہیں وہ طمع کے نیچے آکر کسی مناسب جگہ کے بدلے غیر مناسب جگہ بیاہ دینے کی کوشش کریں گے۔مثلاً کسی ایسے امیر سے بیاہ دیں گے جو بعض وجوہ کی بناء پر لڑکی کو اچھی طرح نہ رکھے۔جہاں اس کے لئے بجائے سکھ کے دکھ اور بجائے راحت کے تکلیف ہو اور وہ ساری عمر مصیبت میں پڑی رہے۔ماں باپ کی خاطر لڑکی ایک وقت تو کنوئیں میں بھی کو د سکتی ہے۔لیکن ہمیشہ کی مصیبت اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے اور جو لڑکی والدین کی نفسانی اغراض کا شکار ہو کر کسی ایسی جگہ بیاہی جائے۔جو اس کے مناسب حال نہ ہو۔وہ ہمیشہ تکلیف میں رہے گی۔نا مناسبت کی وجہ سے جب اس کے محبت کے تقاضے ، جذبات کے تقاضے، احساسات کے تقاضے ضروریات کے تقاضے آرام و آسائش کے تقاضے پورے نہ ہوں گے تو اپنی زندگی کو موت سے بد تر خیال کرے گی۔اس وجہ سے کوئی لڑکی اس قسم کی تکلیفوں کو تمام عمر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔حالانکہ اگر ایک وقت اسے ماں باپ کے لئے جان بھی دینی پڑے تو وہ دے دیگی۔لڑکی فطرتا خواہش مند ہوتی ہے کہ نکاح کے بعد خاوند کے ہاں جا کر آرام و آسائش کی زندگی بسر کرے خوشی اور مسرت سے دن کاٹے۔لیکن جب لڑکیوں کی شادیاں بعض اغراض کے ماتحت نامناسب جگہ کر دی جاتی ہیں۔وہ ہمیشہ کڑھتی اور غم و غصہ کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔جس سے صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس شادی سے مطمئن نہیں اور انہیں اس سے بجائے آسائش کے رنج پہنچ رہا ہے۔میرے پاس چونکہ اس قسم کی شکائتیں آتی رہتی ہیں اس لئے مجھے اس بارے میں کافی علم ہے انہیں جب سمجھایا جائے۔گزارہ کرنے کی نصیحت کی جائے تو کہتی ہیں ہم کیا کریں۔اس مصیبت کی زندگی کی وجہ سے ہمارے اندر سے غم و غصہ کی آگ نکل رہی ہے۔ہمارے ماں باپ اندھے تھے کہ انہوں نے ہمیں ایسی جگہ دھکیل دیا۔جہاں ہمارے لئے سوائے رنج اور مصیبت کے اور کچھ نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان لڑکیوں کو ماں باپ سے محبت نہیں ہوتی یا وہ ماں باپ کی خدمت اور ان سے سلوک نہیں کرنا چاہتیں۔بلکہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کی مصیبت میں سمجھ کر اور اسے ناقابل برداشت پا کر اس طرح کہتی ہیں ورنہ وہی ماں باپ جن کے متعلق ایک لڑکی یہ کہہ رہی ہوتی ہے اگر دریا میں بہ رہے ہوں تو وہ لڑکی ان کو بچانے کے لئے بلا تامل پانی میں کود پڑے گی اور یہ نہ دیکھے گی کہ وہ انہیں بچا بھی سکتی ہے یا نہیں۔اس جوش محبت میں جو اسے والدین سے ہو گا اسے