خطبات محمود (جلد 9) — Page 213
213 لئے ہے کہ جن میں سے بعض کا ذکر وہ اپنے خاوند سے بھی نہیں کر سکتی۔یا جن اخراجات کی اسے آئندہ زندگی میں ضرورت پیش آتی ہے اور شادی کے وقت وہ ان کو جانتی بھی نہیں۔پھر عورتوں کی بعض ایسی ضرورتیں ہوتی ہیں کہ وہ خاوندوں کو کہ تو سکتی ہیں لیکن بعض حالات کے ماتحت خاوندان کو پورا نہیں کر سکتے۔اس لئے ان کے پاس اپنا کچھ مال ہونا چاہیے مثلاً ایک عورت اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے غریب رشتہ داروں یا غریب والدین کی مدد کر سکتی ہے۔غریب اقرباء کو مدد دے سکتی ہے۔مگر یہ اس کی غیرت کے خلاف ہے کہ خاوند سے کمے میرے ماں باپ قابل امداد ہیں ان کی مدد کردیا میرے رشتہ داروں کو کچھ دو۔اس بارے میں عورت بڑی غیرت رکھتی ہے اور وہ فطرتا اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ اپنے والدین کو خاوند کے سامنے حاجتمند قرار دے۔غرض کئی صورتیں ہیں جن کے لئے عورت کا اپنا مال بھی ہونا چاہیے۔اس لئے شریعت نے مہر رکھا ہے تا اگر ضرورت پڑے تو اس سے وہ اپنے ان کاموں میں خرچ کر سکے۔جن کے لئے وہ اپنے خاوند سے نہیں کہہ سکتی اور ان قابل مدد رشتہ داروں کی مدد کر سکے جن کے لئے وہ اپنے خاوند سے کہنا مناسب نہیں خیال کرتی پس مہروہ مال ہے جو عورت کی ساری عمر میں کام آنے کے لئے ہے۔دوسری بات جس کا مد نظر رکھنا ضروری ہے نیت ہے۔اگر یہ بات رائج ہو جائے کہ لڑکی کا مہر والدین لے لیا کریں۔تو اس بات کا بہت بڑا خطرہ ہے کہ بہت سے والدین کی نیت اس کی شادی میں صاف اور بے لوث نہیں رہے گی۔ماں باپ عورت کے لئے آخری اپیل کی جگہ ہوتے ہیں۔جب اسے تکلیف پہنچتی ہے وہ جھٹ ماں باپ سے اس کا ذکر کرتی ہے اور اسے خیال ہوتا ہے کہ اگر اور کسی جگہ میری بات نہیں سنی گئی تو اس جگہ ضرور سنی جائے گی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ لڑکی کے معاملات میں ماں باپ کی کوئی نفسانی غرض شامل نہ ہو۔تا ان کی ہمدردی اس سے متاثر نہ ہو سکے اور ضرورت کے وقت لڑکی کے لئے وہ جائے پناہ بن سکیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ماں باپ کی نیت نکاح کے وقت بالکل پاک اور صاف ہو لیکن اگر یہ بات جائز رکھ دی جائے کہ وہ مہر کی رقم لے لیا کریں یا اپنے لئے کچھ رکھ لیں۔تو قطع نظر اس سے کہ اخلاق کیا کہتا ہے۔قطع نظر اس سے کہ شریعت کا کیا حکم ہے۔قطع نظر اس سے کہ تمدن پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔اس کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے مد نظر لڑکی کو کسی مناسب جگہ بیاہنا نہیں ہو گا بلکہ یہ ہو گا کہ کہاں سے انہیں زیادہ رقم مل سکتی ہے۔یعنی اگر ان کے لئے یہ اجازت ہو کہ وہ مہر کا روپیہ لے سکیں تو وہ حتی الوسع یہ کوشش کریں گے کہ کسی ایسی جگہ لڑکی بیا ہیں