خطبات محمود (جلد 9) — Page 210
210 27 کیا لڑ کی اپنا مہر والدین کو دے سکتی ہے؟ (فرموده ۲۴ جولائی ۱۹۲۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ابھی مجھے ایک دوست نے ایک رقعہ دیا ہے جس میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ ایک عورت جو عاقل اور بالغ ہے وہ اگر یہ چاہتی ہو کہ اس کے نکاح کے وقت اس کا مہر دے دیا جائے تاکہ وہ اسے اپنے والدین کو دے دے جو قابل امداد ہیں۔تو آیا یہ جائز ہے یا نہیں۔چونکہ ہمارے ملک میں لڑکیوں کے متعلق والدین کا فائدہ اٹھانا ایسا عام ہو رہا ہے کہ پنجاب میں پچاس فیصد کے قریب لوگ کام کرتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مسئلہ کے متعلق جو میری رائے ہے اور قرآن اور حدیث سے جو کچھ پتہ چلتا ہے وہ اس خطبہ میں بیان کروں۔یہ ایک موٹی بات ہے اور اسے ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے جس میں نہ کسی کو انکار ہے اور نہ اختلاف کہ اگر صدقہ اور خیرات ایک اشد ترین مخالف کو جس کے ساتھ کوئی رشتہ نہ ہو کوئی خونی تعلق نہ ہو کوئی رحمی تعلق نہ ہو۔دیا جا سکتا ہے۔تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ عورت والدین کے ساتھ حسن سلوک نہ کرے اور اس روپے کو ان کی اشد ترین ضرورتوں کے وقت ان کو نہ دے۔اس لئے یہاں یہ سوال نہیں پیدا ہو تا کہ کوئی عورت اپنے ماں باپ کی مدد کر سکتی ہے یا نہیں کیونکہ اس بات میں کسی مذہب والا بھی اختلاف نہیں رکھے گا کہ جس طرح ایک مرد پر ماں باپ کی خدمت فرض ہے اسی طرح ایک عورت پر بھی ماں باپ کی خدمت فرض ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جہاں تک اس سے ہو سکے ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔یہ بات نہیں کہ ماں باپ لڑکوں کو تو پالتے ہیں۔مگر لڑکیوں کو نہیں پالتے اور نہ یہ ہے کہ لڑکے تو پیدا ہوتے ہیں اور لڑکیاں آسمان سے گرتی ہیں۔بلکہ دونوں کو ایک ہی طرح پالتے ہیں اور دونوں پیدا ہی ہوتے ہیں اور