خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 9

کرتا ہے ہم اس کو مجبور کریں گے اور اس کو اسلامی قواعد و اصول کی پابندی کرنی پڑے گی۔یا وہ اپنے آپ کو اسلام اور احمدیت کی طرف منسوب نہ کرے۔اسکول تعلیم کے لئے بنایا جاتا ہے مگر ہر شخص آزاد ہوتا ہے۔چاہے وہ وہاں تعلیم حاصل کرے چاہے نہ کرے۔لیکن اگر وہ اسکول میں داخل ہو گیا ہے تو پھر اس کو اسکول کے قواعد کی بھی پابندی کرنی پڑے گی اور وہ پابندی کے لئے مجبور کیا جائے گا۔ہاں اسکول سے خارج اور علیحدہ ہو کر وہ آزاد ہو سکتا ہے۔مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ اسکول کا طالب علم ہو کر اسکول کے قواعد کی پابندی نہ کرے۔اگر کوئی مسلمان کہلاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نماز روزہ وغیرہ احکام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو پھر اس کو نماز روزے کی پابندی بھی کرنی پڑے گی۔اور اگر اس کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ احکام خدا کی طرف سے نہیں تو پھر وہ آزاد ہے۔مگر وہ اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کر کے پھر وہ اساس دین کی ہتک کرنے کا مجاز نہیں۔اسلام کے تمام احکام اپنے اندر۔حکمت رکھتے ہیں۔خلاف ورزی بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک پوشیدہ اور ایک علی الاعلان - انسان سے کمزوریاں بھی ظاہر ہوتی ہیں اور وہ غلطی بھی کر بیٹھتا ہے۔مگر جو شخص علی الاعلان خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے وہ سخت مجرم ہوتا ہے۔میرے نزدیک وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو سزا دی جائے اور اس پر ثابت کیا جائے کہ وہ مذہب کی ہتک کر کے دنیاوی فوائد حاصل نہیں کر سکتا۔گو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے لوگ کم ہیں۔مگر مثل ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔ہماری جماعت کی کتنی بھی نیکیاں ہوں مگر دشمن ان کو نہیں دیکھے گا۔بدی ایک بھی ہو تو وہ فوراً اس کو دیکھ لے گا۔ہماری جماعت کے ہزار عمل کرنے والے کو تو دشمن کی آنکھ نہیں دیکھے گی۔لیکن اگر ہم میں کوئی ایک شخص ذرا بدی کرے گا۔تو اس کو ان کی آنکھ فوراً تاڑ لے گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے لاکھوں جانثاروں کو تو نہیں دیکھیں گے مگر ایک عبدالحکیم ان کو فوراً نظر آجاتا ہے۔دشمن خوبی کو کبھی نہیں دیکھتا اس کی نظر عیوب پر ہوتی ہے۔جس وقت بھی وہ کوئی عیب دیکھے گا۔فوراً پکڑے گا۔اس لئے میں پھر اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کسی رنگ میں اور کسی حال میں بھی ہمارے لئے مضر نہیں بلکہ اس کی ہر ایک بات ہمارے لئے مفید اور بابرکت ہے۔اس لئے ایک شخص بھی تم میں ایسا نہ ہونا چاہیے جو اسلام کے کسی حکم کی بھی ہتک کرنے والا ہو۔دنیا کی تاریخ میں ایک بھی ایسی مثال نہیں پائی جاتی کہ جو خدا تعالیٰ کے حکموں کی ہتک کر کے پھر کامیاب ہو گیا ہو۔اللہ