خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 8

8 قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔جو ایک قدم چلتا ہے۔وہ تو پھر بھی ایک قدم آگے ترقی کرتا ہے لیکن جو کھڑا ہے۔وہ ایک قدم بھی منزل طے نہیں کر سکتا۔چلنے والا تو آج نہیں کل نہیں تو پرسوں آخر ایک دن منزل محصور ہے۔پہنچ جائے گا۔بیٹھے رہنے والا جو حرکت ہی نہیں کرتا۔وہ اپنے مقصد کو نہیں پا سکتا۔بعض امور مذہب اور دین کے اساس ہوتے ہیں اس لئے وہ امور زیادہ قابل توجہ اور قابل لحاظ ہوتے ہیں۔نماز بھی ان اساس اور بنیاد دین میں سے ہے۔غیر احمدی تو اس بات پر دل میں خوش ہو لیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مان لیا۔عمل کریں یا نہ کریں لیکن ہم نے تو ایک نبی کی صحبت حاصل کی ہے اور اس کا نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ہم غیر احمدیوں کی طرح محض ایمان لانے پر خوش نہیں ہو سکتے۔لوگ تو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمان پانچ وقتہ نماز کی وجہ سے تجارت وغیرہ کاموں میں کمزور ہو گئے ہیں۔اول تو مسلمان پانچ وقتہ نماز پڑھتے ہی کہاں ہیں۔مگر میں کہتا ہوں مسلمان ذلیل ہی اس لئے ہوئے ہیں کہ انہوں نے پانچ وقتہ نماز کو ترک کر دیا ہے۔دین کا کوئی حکم بھی ایسا نہیں جس پر چل کر انسان نقصان اٹھائے۔بلکہ ان پر نہ چلنے سے انسان نقصان اٹھاتا ہے۔ایسی ایسی باتیں اگر ہماری جماعت میں بھی پائی جائیں اور وہ نماز جیسی ضروری عبادت کے ادا کرنے میں سنتی اور غفلت دکھائیں تو ہم غیروں کو کیا جواب دے سکتے ہیں۔ا اس میں شبہ نہیں کہ ایسی کوئی قوم نہیں گزری جس میں ایسے منافق نہ پائے گئے ہوں۔موسیٰ کے وقت میں بھی تھے۔ابراہیم اور داؤد اور سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے وقت بھی تھے۔حضرت عیسی کا وہ حواری جس نے ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔اور پھر دشمنوں سے جا ملا اور چند روپوں پر اپنے نبی اور مرشد کو پکڑوا دیا۔پس ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت میں بھی ایسے منافق پائے جائیں۔اس لئے ہمارا کام یہ ہونا چاہیے۔کہ ہم ان منافقوں کا مقابلہ کریں۔کیا پہلے مومنین اور انبیاء اپنی جماعت کے منافقین کے وجود سے خوش ہوتے تھے کہ فلاں فلاں ہماری جماعت میں منافق ہے۔نہیں وہ بھی ان کا مقابلہ کرتے تھے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ان کا مقابلہ کریں۔انہوں نے اگر یہ سمجھ رکھا ہے کہ نماز کے لئے ہم مسجد چل کر جائیں گے تو ہماری تجارت میں نقصان ہو گا تو ہم ان پر ثابت کر دیں کہ جس غرض کے لئے وہ مسجد میں نہیں جاتے اور نماز گھر پر یا دوکان پر ہی پڑھ لیتے ہیں۔یا پڑھتے ہی نہیں وہ اس سے دنیا کا فائدہ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔اسلام بے شک آزادی دیتا ہے مگر اس کو جو اسلام سے علیحدہ ہو کر آزادی چاہتا ہے۔مگر جو شخص اسلام میں رہ کر اور اپنے آپ کو ہماری طرف منسوب کر کے بھی اسلامی اصول کی خلاف ورزی