خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 131

131 درنه رنج و غم اور افسوس طبعی امور ہیں اور ان کو کوئی مذہب روک نہیں سکتا۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ کسی کو جو چیز دی جاتی ہے اسے استعمال کرنے کا بھی وہ حق دار ہوتا ہے۔ورنہ دینے کا کیا مطلب مثلاً ہم اگر کسی شخص کو ایک ہاتھ سے کھانا دیں اور دوسرے ہاتھ سے چھین لیں تو یہ دینا نہیں ہوگا۔اور وہ ضرور کہے گا یہ کیسا شخص ہے۔ابھی تو مجھے کھانا دے رہا تھا اور ابھی مجھ سے چھین لیا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو طاقتیں انسان کے اندر رکھی ہیں وہ اس لئے ہیں کہ انسان ان سے کام لے ورنہ انہیں کیوں رکھا گیا۔اگر خدا تعالیٰ نے طبعی طور پر ہمارے اندر یہ بات رکھ دی ہے کہ ہم خوش ہوں تو وہ مذہب کبھی سچا نہیں ہو سکتا جو یہ کہے کہ ایسا مت کرو اور اگر غم کا مادہ بھی طبعی طور پر ہمارے اندر خدا کی طرف سے رکھ دیا گیا ہو تو کوئی مذہب جو سچا ہونے کا دعویدار ہے۔ہر گز یہ نہیں کہہ سکتا کہ غم مت کرو۔مذہب کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ان طبعی جذبات کو جو خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر رکھے ہیں۔ان کے اظہار سے ہمیں روکے۔مذہب کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان جذبات کی حد بندی کرتا ہے کہ کس حد تک ہم ان جذبات کو استعمال کریں۔مذہب یہ بتائے گا کہ کس حد تک ہم خوش ہوں اور کس حد تک غم کریں۔کسی حد تک غم کرنا اچھا ہو گا اور کس حد تک نقصان دہ۔لیکن یہ نہیں کہ مذہب خوش ہونے سے ہی منع کر دے۔یا غمگین ہونے سے روک دے۔پس صبر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسان کسی افسوس کے موقع پر غم نہ کرے اور آنسو نہ بہائے۔کیونکہ آنسو بہانا طبعی امر ہے۔خدا تعالیٰ نے خاص عضو اور ایسے غدود انسان کے جسم کے اندر رکھے ہیں جو آنسو بہانے میں مدد دیتے ہیں۔اگر آنسو بہانا شریعت کے خلاف ہوتا تو کہہ سکتے تھے کہ یہ عضو خدا تعالیٰ نے شریعت کے خلاف بنائے ہیں۔لیکن ایسا نہیں ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے جسم کے اندر کوئی ایسا عضو یا ایسے غدود نہیں رکھے جو خلاف شریعت کاموں کے کرنے میں محمد ہوں۔مثلاً پیٹتا ہے۔یہ اس لئے منع ہے کہ خدا نے کوئی غدود انسان کے جسم کے اندر ایسی نہیں رکھی جس کو اس لئے بنایا گیا ہو کہ پیٹا جائے۔لیکن اس کے مقابلہ میں انسان کے جسم کے اندر ایسی باریک در بار یک غدودیں کثرت سے پائی جاتی ہیں جن میں سے رطوبت نکلتی رہتی ہے اور جس کی وجہ سے آنسو بنتے ہیں۔پس رونا ایک طبعی امر ہے۔یہ ان غدودوں کے موافق ہے جو محض آنسو بہانے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کے جسم کے اندر رکھ دی ہیں۔اس لئے یہ منع نہیں ہو سکتا۔اگر کہا جائے کہ ہاتھ ہلانا بھی طبعی امر ہے اور ہاتھ ہلانے سے ہی پیٹا جاتا ہے۔اس لئے پیٹنا بھی جائز