خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 101

101 14 رمضان المبارک میں دعا (فرموده ۱۷ اپریل ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں بہت سے مذاہب پائے جاتے ہیں۔ایسے مذاہب جو کسی بالا ہستی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور اس وجہ سے حقیقتاً مذہب کہلانے کے مستحق ہیں۔ایسے تمام مذاہب ایک امر میں ایک دوسرے سے بالکل متفق نظر آتے ہیں۔اور وہ امر جس میں وہ تمام متفق ہیں قبولیت دعا ہے۔ہزاروں سال گزشتہ کا ہندو مذہب اس زمانے کا جب کہ دنیا ابھی اپنے ابتدائی نقطہ مرکزی پر تھی اور ترقیات کے بہت سے مدارج بھی انسان کے لئے طے کرنے باقی تھے۔اس وقت کی کتاب دید کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس میں سب سے زیادہ ایسے منتر پائے جاتے ہیں جو کسی بالا ہستی سے التجا کرنے اور دعا کی صورت میں استعمال کئے گئے ہیں۔اور وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس زمانہ کے لوگ کسی بالا ہستی کے سامنے اپنی حاجتوں اور ضروریات کے پورا ہونے کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔ایران کی قدیم ترین تہذیب جو تمام دنیا کی تہذیبوں کا گہوارا اور انسانی نسل کا نقطہ مرکزی سمجھی جاتی ہے۔اور اس زمانہ کی تحریروں کو جب کاغذ بھی دنیا میں نہیں ایجاد ہوا تھا اور جب لوگ پتوں اور ہڈیوں وغیرہ پر بھی لکھا کرتے تھے اور جب کہ اشاروں میں بات چیت کرتے تھے۔اس وقت کے اشاروں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ لوگ کسی بالا ہستی سے دعا کیا کرتے تھے۔اسی طرح مصر کے آثار قدیمہ۔جن کے زمانہ کی طوالت پندرہ ہزار سال تک سمجھی جاتی ہے۔اس وقت کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ مصری لوگ اس وقت بھی کسی بالا ہستی کے سامنے جھکا کرتے تھے۔اسی طرح موسیٰ عمران سینا کی پہاڑیوں میں یہوداہ کے سامنے اگر گریہ و زاری کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو عیسی مریم گلیل کی پہاڑیوں میں خداوند خدا کے سامنے اپنی درخواستیں پیش کرتا پایا جاتا ہے۔عرب کے لوگ جو بالکل جاہل اور کسی دین سے