خطبات محمود (جلد 9) — Page 99
99 وہ بیمار ہوں گے لیکن ان کے قومی شہوانی پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہو گا۔بلکہ وہ قائم رہیں گے۔اور اس قوت کو وہ پورا کرتے ہیں۔بلکہ شائد اگر وہ پورا نہ کریں تو ان پر اس کا الٹا اثر ہو۔اس بارے میں میں مثال نہیں دے سکتا۔ورنہ بڑے بڑے بزرگوں کی شہادتیں ہیں جو انہوں نے خود بیان کیں۔تو ایسے بھی بیمار ہوتے ہیں جن کو جنابت کے غسل کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن غسل کرنا ان کے لئے منع ہوتا ہے۔بلکہ وضو بھی ان کے لئے جائز نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ ان کی صحت کے لئے مضر ہوتا ہے۔باوجود یکہ شہوانی قوی ان میں پائے جاتے ہیں اور وہ اس طاقت کو پورا کرتے ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ فقہاء بھی ان کو بیمار ہی کہتے ہیں۔خواہ وہ بچے بھی پیدا کرتے ہوں۔تیمم سے بڑھ کر طب ان کو اجازت نہ دے گی۔پس جو لوگ طب سے واقف ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ بعض بیمار بناوٹ کے لحاظ سے ایسے واقعہ ہوتے ہیں کہ وہ بلوغت جو روزوں کے حکم کو عائد کرتی ہے ان کو حاصل نہیں ہوتی۔لیکن وہ بلوغت کہ جس سے وہ اولاد پیدا کر سکتے ہیں ان کو حاصل ہوتی ہے۔اور اگر اس کو وہ پورا نہ کریں تو ان کی صحت زیادہ کمزور ہو جائے۔بلکہ ممکن ہے کہ بعض اور بیماریاں بھی ان کو لاحق ہو جائیں۔تو ہر ایک بلوغت الگ الگ قسم کی ہوتی ہے اور الگ الگ ہی اس کے متعلق احکامات ہوتے ہیں۔ایک بلوغت وہ ہے جو تین سال سے شروع ہو جاتی ہے۔دوسری وہ جو سات سال سے تیسری وہ جو چودہ سال سے شروع ہو جاتی ہے۔پس روزے کی بلوغت پندرہ سال سے شروع ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاد کے لئے پندرہ سال سے کم عمر جائز نہیں رکھی۔کیونکہ جہاد میں جسمانی کوفت ہوتی ہے۔اگر اس عمر سے پہلے کسی سے جہاد کرایا جائے تو نتیجہ یہ ہو کہ اگلے جہاد اس کے سب مارے جائیں گے۔اسی طرح اس عمر میں بچے کی نشوونما کے لئے روزے سے روکتا بے دینی نہیں بلکہ اگلے چالیس پچاس سال کی عمر کے لئے اس کے پاس ذخیرہ جمع کرنا ہے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم ان کے جسموں کو کمزور کر کے آئندہ زندگی میں ان کو روزے رکھنے سے محروم رکھتے ہیں۔لیکن اگر ہم ان کو نشود نما حاصل کرنے دیتے ہیں تو ان کی ہڈی اور جسم مضبوط ہو جائے گا اور آئندہ زندگی کے اکثر حصہ میں وہ با آسانی روزے رکھ سکیں گے۔پہلے ہی ہمارے ملک کے لوگوں کی بچوں کے متعلق بے احتیاطی اور نادانی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں کی صحت بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔یورپین لوگ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے متواتر کام کرتے ہیں مگر ذرا نہیں تھکتے۔لیکن ہمارے ملک کے آدمی چند گھنٹے بھی متواتر کام نہیں کر سکتے۔جس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں کی بچپن میں پوری پوری نشود نما نہیں ہوتی۔پس بچپن میں بچوں کی