خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 81

81 کہے کہ آنحضرت میں نعوذ باللہ کیا برکت ہوگی کیونکہ آپ تو عائشہ سے برکت ڈھونڈتے تھے۔تو یہ اس کی نادانی ہوگی۔کیونکہ آپ کا اس جگہ منہ لگا کر پانی پینا بحیثیت نبی کے نہ تھا بلکہ خاوند کے تھا۔پس اس طرح آپ نے نمونہ قائم کر دیا کہ اپنی بیویوں سے حسن سلوک اور انکی دلجوئی اور خاطر داری یوں کی جاتی ہے۔اسی طرح آپ بعض بچوں کے باپ تھے۔لڑکے تو آپ کے بچپن کی حالت میں فوت ہو گئے تھے۔لڑکیاں تھیں۔ان لڑکیوں کے لڑکے آپ کے نواسے تھے۔وہ آپ کی کمر پر چڑھ جاتے تھے اور آپ ان کو اٹھاتے تھے۔کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ ان بچوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کر دی کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کی کمر پر چڑھ گئے۔۔۔اور انہوں نے آپ کو گھوڑا بنا یا۔پس یہ حالت نبوت کے لحاظ سے نہیں ہے۔یہ حیثیت آپ کی محمد نبی کی نہیں تھی۔محمد نانا کی تھی۔کیونکہ حسن و حسین رضی اللہ عنما آپ کے نواسے تھے۔پس آپ ان کا نانا ہونے کی حیثیت سے ان کے ناز اٹھاتے تھے کیونکہ ماں باپ کی طرح نانا نانی بھی اپنے نواسوں کے ناز اٹھایا کرتے ہیں۔پھر آپ کے والدین تو زندہ نہ تھے مگر ایسے رشتہ دار تھے جو آپ کے لئے قابل عزت تھے۔چنانچہ آپ ان کا لحاظ کرتے تھے۔جہاں آپ کی حیثیت نبوت اور رسالت تقاضا کرتی تھی کہ آپ ہر ایک شخص سے عدل و انصاف کا سلوک کریں وہاں آپ ان تعلقات کو بھی فراموش۔نہ کرتے تھے۔جنگ بدر میں حضرت عباس مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو گئے تھے۔عمر کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس میں چنداں فرق نہ تھا۔حضرت عباس چند مہینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔اور حضرت عباس کی بھی یہ کیفیت تھی کہ جب بڑائی چھوٹائی کا ذکر کرتے تو یوں کرتے کہ بڑے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔مگر پیدا پہلے میں ہوا تھا۔غرض بلحاظ چچا ہونے کے حضرت عباس کی حیثیت باپ کی تھی۔جب آپ قید ہو کر آئے تو دوسرے قیدیوں کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ دئے گئے تھے۔ایسی سختی سے جکڑے ہوئے تھے کہ وہ حرکت نہ کر سکتے تھے۔اس سے ان کو تکلیف ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی تکلیف برداشت نہ ہو سکتی تھی۔آپ بے چینی سے کروٹیں بدل رہے تھے۔ایک صحابی نے یہ حالت دیکھی۔اور عرض کیا کہ عباس کے بند ڈھیلے کردوں۔فرمایا جو سب قیدیوں سے سلوک ہے اس سے وہ ممتاز نہیں کئے جا سکتے۔آخر صحابہ نے سب قیدیوں کے بند ڈھیلے کئے۔۲۔جس سے انہوں نے آرام کیا اور آپ بھی آرام فرما سکے۔آپ نے عدل و انصاف میں فرق نہ آنے دیا۔گو حضرت عباس کافر نہ تھے دل سے مسلمان تھے۔مگر چونکہ کفار کی طرف سے آئے تھے اس لئے آپ کے ساتھ سلوک کفار جیسا ہی آپ نے کیا۔بحیثیت بھتیجے کے آپ کو حضرت عباس کی تکلیف سے تکلیف تھی۔مگر بحیثیت مسلمانوں کے حاکم اور بادشاہ کے آپ نے حضرت عباس سے کوئی علیہ