خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 67

67 ہوتا ہے۔اس لئے یہ بھی ایک بڑی قربانی ہے۔جب تک ان کی خدمت کا وقت نہیں۔وہ اس طرح سے اس خدمت میں شامل ہو جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں جا رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ مدینہ میں ایک جماعت ہے تم کوئی جنگ نہیں کرتے اور نہ کوئی وادی قطع کرتے ہو اور نہ کوئی تکلیف اٹھاتے ہو مگر وہ تمہارے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا کہ حضور وہ کون ہیں اور کیونکر شریک ثواب ہو سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ وہ وہ لوگ ہیں جن کو مجبوری نے روک دیا ہے۔ان کے دلوں میں تڑپ ہے مگر مجبور ہیں۔بس چلے تو فورا چل پڑیں۔مثلاً اندھے ہیں یا لنگڑے ہیں تو وہ جانے سے مجبور ہیں مگر ان کے دل غمگین ہوتے ہیں کہ ہم کیونکر اس ثواب میں شریک ہو سکتے ہیں۔۲۔پس جن کے دلوں میں بچے طور پر یہ خواہش ہوتی ہے۔ان کو ایسی خدمات سے ثواب کا موقعہ مل جاتا ہے۔دل کی خواہش کا پتہ صرف زبان سے نہیں لگ سکتا۔یہ کہدینا کہ میں ایسا خیال کرتا ہوں۔کافی نہیں۔خواہش کی علامت یہ ہے کہ جس حد تک انسان خدمت کر سکتا ہے کرے۔اور پھر جو رہ جاوے اللہ تعالیٰ اسے اس ثواب میں شریک کر دیتا ہے۔یہ کام کو معمولی ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگ ان کو بھی پورا نہیں کر سکتے۔پس اگر کوئی کہے کہ مجھے خواہش ہے مگر وہ ایسا کام یا مجاہدین کے گھر والوں کی خدمت وغیرہ نہ کرے تو یہ اس کا وہم ہے کہ مجھے خواہش جہاد ہے۔اس کا نفس اس کو دھوکہ دے رہا ہے اور زبان اس کو اور دوسرے لوگوں کو دھوکہ میں ڈالتی ہے اگر اس کی امید اور خواہش کچی ہو تو ضرور اس کو موقعہ مل جاوے اور وہ کسی نہ کسی طرح پوری کوشش سے ثواب میں شریک ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اپنے فرائض کے پہچاننے کی اور ان کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ سمجھیں اور اس خدمت کو سرانجام دیں۔اور جو بوجھ ان پر رکھا گیا ہے۔اس کو پورے طور پر اٹھائیں تاکہ اللہ تعالٰی کے حضور سرخرو ہوں اور ہمیں اس وفادار غلام کی طرح بنادے کہ جو تکلیف کے وقت بھاگ نہیں جاتا بلکہ آقا کے منہ کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اشارہ ہو تو میں سب کچھ قربان کردوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا ہی بنادے۔آمین۔(۴) دوسرے خطبہ میں فرمایا۔میں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ خصوصیت سے راجپوتوں کی ضرورت ہے اپنی قوموں کے رسم و رواج اور اخلاق سے وہ واقف ہونگے اور پھر وہ ملکانہ لوگ راجپوتوں کی باتیں ہی سنتے ہیں۔اس لئے میں خاص طور پر راجپوتوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ وہ جو ہمیشہ سے اپنی برتری اور خوبی کے قصے بیان کیا کرتے تھے ان کا عملی ثبوت دیں اور ثابت کر دکھلائیں کہ واقعی یہ ایک بنادر اور کام کرنے والی قوم ہے۔دوسری قوموں کے لوگ آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کے لئے