خطبات محمود (جلد 8) — Page 66
66 چھینے نہ جائیں گے۔تم تین ماہ تک اپنے کاروبار چھوڑو گے۔تمہیں اس سے کہیں اعلیٰ کا روبار میں گے۔پس اس موقع پر ان مشکلات سے مت گھبراؤ اور اس قربانی سے پیچھے مت ہٹو کہ جو کچھ تمہیں ملنے والا ہے وہ اس سے بہت اعلیٰ ہے۔صحبت کے بدلہ اعلیٰ صحبت اور مال کے بدلہ اعلیٰ مال اور کاروبار کے بدلے اعلیٰ کاروبار ملیں گے۔میں تو جب انعام کو دیکھتا ہوں تو اس قربانی کو قربانی کہنا قربانی کی ہتک کرنا سمجھتا ہوں۔پس میں اپنے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جنہوں نے ابھی تک اپنے نام پیش نہیں کئے وہ فوراً اپنے نام پیش کر دیں اور اس بستی میں نہ رہیں کہ ابھی وقت بہت ہے۔پھر پیش کر دیں گے۔وقت تو بہت ہے لیکن اگر ابھی ہمارے پاس درخواستیں نہ پہنچیں گی تو کام میں گڑ بڑ پڑ جائے گی اور ہمیں اطمینان نہ ہو گا اس لئے ایسے دوست بہت جلد نام لکھوا دیں تاکہ جس طبقہ اور موقعہ کے وہ مناسب ہوں اس کے مطابق ان کی تقسیم کی جائے۔ورنہ پھر ترتیب میں مشکل پڑ جائے گی۔(۳) وہ لوگ جو کسی نہ کسی مجبوری سے ابھی تک نہ گئے ہوں یا نہ جا سکتے ہوں ان کے لئے بھی اس ثواب میں شریک ہونے کا ایک طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ جانے والے احباب کے گھر بار والوں کا فکر رکھیں اور ان کی تکلیفوں کو دور کریں۔محلہ داروں کو چاہیے کہ ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ کے گھروں کی حفاظت کریں۔کیونکہ ان کے گھر غیر محفوظ ہیں اور خصوصیت سے ان کا خیال رکھیں اور اپنی ضروریات پر ان کی ضروریات کو مقدم رکھیں اور سودے سلف کا خیال رکھیں۔ان مجاہدین کے گھروں میں بیمار بھی ہونگے۔اس لئے دوسرے بھائیوں کا فرض ہے کہ وہ ان کا خیال رکھیں اور اپنے گھروں کی نسبت ان کی زیادہ خبر گیری کریں۔میں قادیان والوں اور دیگر جہاں جہاں سے احباب اس جہاد میں شریک ہوں کو نہایت زور سے اس ثواب میں شریک ہونے کے لئے تاکید کرتا ہوں۔ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ پورے جوش اور استقلال سے یہ ثابت کردیں کہ وہ خدا کے بزگزیدہ کی پاک جماعت ہے۔خدا اور اس کے دین کی محبت لے کر اٹھیں۔پھر ان پر کوئی مصیبت اثر نہیں کر سکتی اور ان کے پاؤں ڈگمگا نہیں سکتے بلکہ ہر ایک تکلیف ان کی ترقی کا موجب ہوگی۔پس جو لوگ ملکانہ میں تبلیغ کو گئے ہیں۔دوسروں کو چاہیے کہ ان کے گھر جاویں اور روزانہ جاویں اور پوچھیں کوئی تکلیف ہو تو اس کو بقدر امکان دور کریں۔بہت سی طبائع جان تو دے دیتی ہیں مگر وہ ایسے کام کہ روزانہ کسی کے گھر جا کر اس کی حاجت پوچھیں۔نہیں کر سکتے اور ان کو یہ دو بھر