خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 530

530۔میں احمدی اور غیر احمدی سب برابر ہوں۔خواہ کوئی آریہ ہو۔ہندو ہو۔ہمارا شدید مخالف بھی ہو۔تو بھی یہی خیال رہے کہ اس کی جان ایسی ہی قیمتی ہے۔جیسی خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق کی پس ہر ایک سے ہمدردی کی جائے۔ہر ایک کی بیماری کا علاج کیا جائے۔اور ہمارے دروازے سب کے لئے کھلے ہوں۔خواہ کوئی ہمارا دشمن ہی ہو۔ہماری جماعت کے وہ لوگ جو اپنے وقت کا کچھ حصہ بچا سکتے ہیں۔اپنے آپ کو والنٹیر کریں۔تاکہ ڈاکٹر ان سے کام لے سکیں۔پھر دعاؤں میں بھی سب کو یاد رکھو۔خواہ کوئی کسی مذہب و ملت کا ہو۔مومن اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا مظہر سمجھتا ہے۔اور خدا کے فیض مومنوں پر ہی نہیں ہوتے۔بلکہ اس کے بہت سے فیض ایسے ہیں۔جو مومن کا فرسب کو حاصل ہوتے ہیں۔امید ہے کہ دوست میری ان باتوں پر غور اور عمل کر کے اخلاص اور بچے تقویٰ کا ثبوت دیں گے۔تاکہ دوسروں کے لئے نمونہ ہوں۔اور تا سچا ایثار خدا کے رحم کو جذب کرے۔میں پھر خصوصیت سے دعاؤں پر زور دینے کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہم کمزور ہیں۔اور ہو سکتا ہے۔کہ کسی کی یا عام جماعت کی کمزوری کی وجہ سے لوگوں کی ٹھوکر کا موجب ہوں۔اس لئے خاص طور پر اپنے لئے اپنے سب بھائیوں کے لئے اپنے ہمسائیوں کے لئے دعائیں کرو۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ اس کی رضا کو حاصل کر سکیں۔اور اس کے منشاء کے مطابق عمل کر کے ہر قسم کے دکھوں سے محفوظ رہیں۔اور شماتت اعداء کا موجب نہ ہوں مجمع بحار الانوار جلد ۲ باب التین الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۲۵ء)